اسلامی عبادات کا مقصود فلاحی معاشرہ ہے عتیق انور راجہ

اسلامی عبادات کا مقصود فلاحی معاشرہ ہے
عتیق انور راجہ
05-12-2024
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک صاحب کی خوبی ہے کہ آپ کے خطبات جمعہ میں روایتی بیانات کے ساتھ تاریخی،ثقافتی،ادبی اور ماحولیاتی موضوعات بھی شامل ہوتے ہیں۔آپ کی خوبی یہ بھی ہے کہ جس عنوان پر خطاب شروع کریں اس سے پورا انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پوری تیاری کے ساتھ باقاعدہ نوٹس بنا کے چالیس منٹ گفتگو فرماتے ہیں۔پچھلے جمعہ آپ نے تفضیل سے ذکر کیا کہ ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن اس کی حفاظت نہیں کرتے۔اس پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا،اصل میں یہ وحید ان کے لیے ہے جو نماز ادا کرکے اللہ کے حقوق تو پورے کرتے ہیں لیکن اللہ کے بندوں کے حقوق پورے نہیں کرتے ہیں۔نماز اسلام کا ایک بنیادی رکن اور ایمان کا عملی مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے تاکہ وہ اپنے رب کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور اس کی عبادت کے ذریعے اپنے دل کو سکون پہنچائیں۔ نماز بندے اور خالق کے درمیان ایک ایسا پل ہے جس سے روحانیت کی بلندیوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:”پس بربادی ہے ان نمازیوں کے لیے، جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ اس میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو بظاہر نماز تو پڑھتے ہیں، لیکن ان کی نماز محض دکھاوا ہوتی ہے یا وہ نماز کو وقت پر ادا نہیں کرتے۔ نماز دل کی پاکیزگی اور روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو عاجزی سکھاتی ہے اور اللہ کے حکموں کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ لیکن اگر نماز کو محض ایک ظاہری عمل کے طور پر دیکھا جائے اور اس کی روح کو نظرانداز کیا جائے تو یہ ایک بے روح عبادت بن جاتی ہے۔غفلت سے مراد وہ بے پروائی اور لاپرواہی ہے جس کے نتیجے میں نماز کے اہم تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔ بعض لوگ نماز کو وقت پر ادا نہیں کرتے، کچھ لوگ نماز پڑھنے میں سستی کرتے ہیں، اور بعض اپنی نماز کو دکھاوے کے طور پر پڑھتے ہیں تاکہ لوگوں میں نیک بننے کا تاثر دے سکیں۔ یہ رویے نماز کی اصل روح کے خلاف ہیں۔دکھاوے کی نماز کی مذمت کی گئی ہے۔قرآن اور احادیث میں ریاکاری کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”ریا (دکھاوا) شرک کے قریب ہے۔” (صحیح بخاری)۔دکھاوے کی نماز اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی خوشنودی کے لیے ہوتی ہے، اور ایسی نماز نہ صرف بے فائدہ ہے بلکہ عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔حقیقی نماز وہ ہے جو دل کی گہرائیوں سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جائے۔ ایسی نماز انسان کو برائیوں اور گناہوں سے روکتی ہے اور اللہ کے قریب کرتی ہے۔ ہمیں اپنی نمازوں کو وقت پر، دلجمعی اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہو اور ہماری آخرت کامیاب ہو۔
صبح کی نماز کے لیے وضو کرتے وقت میرے ذہن میں خیال آرہا تھا کہ پچاس ساٹھ لاکھ نفوس کی آبادی پر مشتمل گوجرانوالہ کی ہر گلی،محلے میں مساجد ہیں جہاں روز لوگ پانچ وقت نماز کے لیے جاتے ہیں۔ہر مسجد میں اگر اوسطً بیس فیصد لوگ بھی روز نماز پڑھتے ہوں تو تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔اگر یہ بیس فیصد لوگ دوسرے کے ساتھ صلح رحمی کریں،وراثت کو صیح تقسیم کریں،ماں باپ،رشتہ داروں،مسافروں،یتمیوں،بے سہاروں،مزدوروں،قیدیوں اور سفید پوشوں سے بہتر سلوک کرنے لگیں۔یہ بیس فیصد لوگ اگر ٹریفک قوانین پر عمل کرنے لگیں،پانی کا بے دریغ استعمال ترک کردیں،درخت صدقہ جاریہ سمجھ کے لگانے لگیں،صفائی کواپنا شعار بنالیں۔دکان،کارخانے میں ناپ تول کا خیال رکھیں،شادی بیاہ اور فوتگی پر اصراف سے بچنے لگیں،بچوں کو ڈگریوں کی بجائے علم و شعور کے لیے درسگاہوں میں بیجھیں،عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں نہ دیں،برادریوں،دھڑے بندیوں،عصبیتوں،فرقہ پرستیوں،شخص پرستیوں اور گروہ بندیوں کا شکار ہونے کی بجائے حق کا ساتھ دینے لگیں تو شہر میں بہتر ماحول بننا شروع ہوسکتا ہے۔
اسلامی عبادات کا مقصد جہاں رضا الہی ہے وہاں خالق کی منشا یہ بھی ہے کہ اس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنیں۔یعنی ہر فرد ایک ذمہ دارشہری بننے کی کوشش کرے۔اچھا شہری کسی بھی معاشرے کا اہم ستون ہوتا ہے۔ ایک مہذب، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے اچھے شہریوں کی موجودگی ضروری ہے۔ ایک اچھے شہری کی کئی خوبیاں ہوتی ہیں جو نہ صرف اس کے کردار کو نمایاں کرتی ہیں بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگوں پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہیں۔اچھا شہری ہمیشہ قانون کی پاسداری کرتا ہے اور اپنے حقوق و فرائض کو سمجھتا ہے۔ وہ کسی بھی ایسے عمل میں شریک نہیں ہوتا جو معاشرتی امن کو نقصان پہنچائے۔دیانت داری ایک اچھے شہری کی بنیادی خوبی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ایمانداری سے کام لیتا ہے، چاہے وہ ذاتی ہو یا پیشہ ورانہ۔اچھا شہری نہ صرف اپنے حقوق کی حفاظت کرتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ ناانصافی یا ظلم نہیں کرتا اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کرتا ہے۔ایک اچھے شہری میں ہمدردی اور محبت کا جذبہ ہوتا ہے۔ وہ ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے اور معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔اچھا شہری اپنی گلی، محلے اور شہر کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کوڑے کو مناسب جگہ پر پھینکتا ہے اور ماحول کی بہتری کے لیے درخت لگانے اور دیگر اقدامات میں حصہ لیتا ہے۔اچھا شہری اپنی تعلیم کو اہمیت دیتا ہے اور اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ دوسروں کو بھی بہتر زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔اچھا شہری اپنے ملک سے محبت کرتا ہے اور اس کی بہتری کے لیے کام کرتا ہے۔ وہ ہر وقت اپنے ملک کی خدمت اور حفاظت کے لیے تیار رہتا ہے۔ایک اچھے شہری میں اتحاد اور بھائی چارے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اور فرقہ واریت یا نفرت پھیلانے سے گریز کرتا ہے۔ اچھا شہری وہ ہے جو نہ صرف اپنے کردار کو سنوارنے پر توجہ دیتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ اگر ہم سب اچھے شہری بننے کی کوشش کریں تو ہمارا معاشرہ خوشحال اور ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے کے اصول فراہم کرتا ہے۔ اسلامی عبادات کا بنیادی مقصد نہ صرف بندے اور خدا کے درمیان تعلق مضبوط کرنا ہے بلکہ ایک ایسا فلاحی معاشرہ قائم کرنا بھی ہے جس میں عدل، محبت، اخوت اور مساوات کے اصولوں پر عمل کیا جائے۔عبادات اور ان کا سماجی مقصد سمجھنا بہت ضروری ہے۔اسلامی عبادات، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج، صرف ذاتی عبادات نہیں بلکہ ان کے معاشرتی اثرات بھی بہت گہرے ہیں۔ یہ اعمال فرد کو اخلاقی اور روحانی طور پر بہتر بناتے ہیں اور اسے ایک اچھے شہری اور انسان کے طور پر معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔نماز مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور مساوات کی علامت ہے۔ جب لوگ صف میں کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے ہیں تو اس وقت کسی کی دولت، حیثیت یا عہدے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ یہ عمل لوگوں میں عاجزی، بھائی چارے اور مساوات کا شعور پیدا کرتا ہے، جو ایک فلاحی معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہے۔زکوٰۃ کا مقصد دولت کی منصفانہ تقسیم ہے تاکہ کوئی فرد بھوک اور افلاس کا شکار نہ ہو۔ یہ نظام غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور محتاجوں کی مدد کرکے ایک ایسا سماج تشکیل دیتا ہے جہاں تمام افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرسکیں۔ زکوٰۃ ایک فلاحی ریاست کے قیام کی بنیاد ہے جو سماجی انصاف کو یقینی بناتی ہے۔یعنی ہر عمل کسی نہ کسی طور لوگوں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے اور ان کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ جیسے کہ روزہ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانے اور خدا کے قریب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ عمل افراد میں ہمدردی اور دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، خاص طور پر غریبوں کے لیے جو روزانہ بھوک کا سامنا کرتے ہیں۔ حج ایک عالمی اجتماع ہے جہاں دنیا بھر کے مسلمان بغیر کسی رنگ، نسل یا زبان کے فرق کے اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف مسلمانوں میں اتحاد کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دنیا کے سامنے اسلام کے امن اور بھائی چارے کا پیغام بھی پیش کرتا ہے۔اسلامی عبادات فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرتی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ ان اعمال کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، ظلم و زیادتی سے بچتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اسلامی عبادات کے اس نظام کے ذریعے ایک ایسا سماج بنایا جا سکتا ہے جو امن، انصاف اور خوشحالی کا گہوارہ ہو۔اسلامی عبادات کا مقصد محض روحانی ترقی نہیں بلکہ ایک ایسا فلاحی معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں ہر فرد خوشحال ہو اور اپنے فرائض ذمہ داری سے انجام دے۔ اگر مسلمان ان عبادات کی روح کو سمجھ کر ان پر عمل کریں تو ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے جو دنیا کے لیے مشعلِ راہ بنے۔