ترک صدر طیب اردگان نے وہ دھمکی دے دی جس سے یورپ کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے،
انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپ اور ترکی کے مابین شام و عراق اور دیگر ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کو یورپ میں داخل ہونے سے روکنے کا ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اب ترکی نے یونان کے بغاوت میں ملوث 8ترک فوجیوں کو واپس کرنے سے انکار پر اس معاہدے کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کی دھمکی دے دی ہے، جس نے یورپی ممالک کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ترکی میں ناکام فوجی بغاوت ہوئی۔ اس دوران ترکی کے 8فوجی گرفتاری سے بچنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر پر فرار ہو کر یونان چلے گئے تھے۔ ترک حکومت ابتداءسے ہی یونان سے ان فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتی آئی ہے تاہم اب یونان کی طرف سے انہیں واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترک وزارت خارجہ کی طرف سے گزشتہ روز ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ”اگر یونان نے اب بھی ہمارے باغی فوجی ہمارے حوالے نہیں کیے تو ہم ضروری قدم اٹھائیں گے اور پناہ گزینوں کے متعلق ہونے والا معاہدہ منسوخ کر دیں گے۔“ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ”یہ معاملہ ترکی اور یونان کا باہمی ہے لہٰذا ہمیں امید ہے کہ دونوں ملک مل کر اسے حل کریں گے اور اس معاہدے کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔ “ واضح رہے کہ یونان اور ترکی کی دشمنی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور دونوں 1974ءمیں جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔






