ایڈووکیٹ گل رخ ارشد کی وراثتی جائیداد پر قبضہ مافیا کا تازہ وار دفتر کے راستے پر دیوار، سیڑھی چوری، سٹے آرڈر کے باوجود پولیس بے حس

ایڈووکیٹ گل رخ ارشد کی وراثتی جائیداد پر قبضہ مافیا کا تازہ وار
دفتر کے راستے پر دیوار، سیڑھی چوری

: 1 جولائی 2025
رپورٹ: بشیر باجوہ
: کرائم ڈیسک
: گوجرانوالہ، پاکستان

ایڈووکیٹ گل رخ ارشد کی وراثتی جائیداد پر قبضہ مافیا کا تازہ وار
دفتر کے راستے پر دیوار، سیڑھی چوری، سٹے آرڈر کے باوجود پولیس بے حس

گوجرانوالہ میں آج صبح مورخہ 1 جولائی 2025 کو ایڈووکیٹ گل رخ ارشد کی جائیداد پر غیر قانونی قبضے کی تازہ کارروائی کی گئی۔ متاثرہ وکیل کے مطابق جب وہ دفتر جانے کے لیے اپنی وراثتی جگہ نزد معراج دین فارمیسی، بیرون کھیالی دروازہ پر پہنچیں تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ قبضہ مافیا نے دفتر کے داخلی راستے پر دیوار کھڑی کر دی ہے اور لوہے کی سیڑھی بھی چوری کر لی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ گل رخ ارشد نے فوراً پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کی، مگر ڈیڑھ گھنٹے انتظار کے بعد بھی کوئی اہلکار نہ آیا۔ پھر انہوں نے 1787 پر کال کر کے شکایت درج کرائی، جہاں سے کہا گیا کہ “وقت نہیں، انتظار کریں، نہ آئیں تو دوبارہ کال کریں”۔
بالآخر، انہوں نے ایک تحریری درخواست تھانہ سبزی منڈی میں جمع کروائی اور ایس ایچ او سے ملاقات کی، مگر ان کے بقول کسی قسم کی سنوائی نہ ہوئی اور ایس ایچ او نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

متاثرہ وکیل کے مطابق عدالت دیوانی سے جاری شدہ سٹے آرڈر اب بھی نافذ العمل ہے،

“رینٹ کنٹرولر گوجرانوالہ نے فریق دوئم اسماعیل مخالف کی جانب سے دائر تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے احکامات خارج فرما دیے ہیں۔” مگر اس کے باوجود پولیس تعاون کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

پس منظر
عدالتی حکم کے باوجود زبردستی قبضہ، DVR اور نقدی بھی لے گئے

ایڈووکیٹ گل رخ ارشد نے پہلے بھی انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو تحریری درخواست جمع کروائی تھی، جس میں 22 جون 2025 کو رات 11:30 بجے سب انسپکٹر لقمان، لیڈی کانسٹیبل اقراء شہزادی (LC/4556-63)، ایک نامعلوم کانسٹیبل، تین نامعلوم خواتین، اور شہری اسماعیل، عمران، اور عمر پر عدالت دیوانی کے حکمِ امتناعی کے باوجود زبردستی قبضہ کروانے کا الزام ہے۔
۔
درخواست کے مطابق پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں نہ صرف کارخانے کے تالے توڑے گئے بلکہ لیڈی کانسٹیبل نے دفتر سے 3عدد CCTV کیمروں کی DVR، دو لاکھ روپے نقدی، اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئی ۔

ایڈووکیٹ گل رخ ارشد کے مطابق یہ تمام اقدامات شواہد مٹانے اور پولیس گردی کو چھپانے کے لیے کیے گئے۔ اس سے قبل بھی تھانہ سبزی منڈی سے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:

آج کی تازہ کارروائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عدالت کے حکم، شہری حقوق، اور قانون کی بالا دستی کو مکمل طور پر پامال کیا جا رہا ہے۔
ایڈووکیٹ گل رخ ارشد جیسے باوقار وکیل کے ساتھ ایسا سلوک صرف انفرادی ظلم نہیں، بلکہ ریاستی و عدالتی وقار کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی جی پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور پاکستان بار کونسل اس معاملے پر فوری نوٹس لے کر شفاف اور فوری انصاف یقینی بنائیں۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر متاثرہ فریق کے بیانات، عدالت کے احکامات اور جمع شدہ درخواستوں پر مبنی ہے۔ مزید تحقیقاتی و عدالتی پیش رفت کی بنیاد پر معلومات میں رد و بدل ممکن ہے۔

VOC/004/010725
https://www.facebook.com/share/p/1EhMpCWXvo/

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں