مودی کی ایوان میں غیر حاضری پر اپوزیشن کا احتجاج، پاکستان سے متعلق تنازع پر بریفنگ نہ دینے پر راجیہ سبھا سے واک آؤٹ

: نیوز ڈیسک — بھارت

🇮🇳 مودی کی ایوان میں غیر حاضری پر اپوزیشن کا احتجاج، پاکستان سے متعلق تنازع پر بریفنگ نہ دینے پر راجیہ سبھا سے واک آؤٹ

نئی دہلی: بھارت کی راجیہ سبھا میں پاکستان سے حالیہ تنازع پر وزیر اعظم نریندرا مودی کی عدم موجودگی اور انکارِ بریفنگ پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے اسے “ایوان کی بے حرمتی” قرار دیا۔

بدھ کی شام جیسے ہی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ‘آپریشن سندور’ پر بحث سمیٹنے کی کوشش کی، اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب بات خود وزیر اعظم سے متعلق ہو، تو جواب بھی انہی کو دینا چاہیے۔

کھڑگے نے کہا:

> “وزیر اعظم پارلیمنٹ میں موجود ہیں مگر ایوان بالا کو بریف نہیں کر رہے۔ یہ پارلیمانی روایات کی توہین ہے۔ سولہ گھنٹے کی بحث کے بعد بھی اگر وزیر اعظم سامنے نہ آئیں، تو پھر کس سے جواب طلب کیا جائے؟”

امیت شاہ نے اپوزیشن کے اعتراضات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایوان میں اپنی نمائندگی کس کے ذریعے کرائے۔ ان کے بیان کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

⛔ امیت شاہ کا حزب اختلاف پر جوابی حملہ

اپنی تقریر میں امیت شاہ نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:

> “یہی کانگریس تھی جس کے دور میں کشمیر کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے قبضے میں گیا۔ مگر آج، نریندرا مودی کی قیادت میں ہم وہ علاقے واپس لائیں گے۔”

انہوں نے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کو بھی ہدف تنقید بنایا، جنہوں نے پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد پر سوالات اٹھائے تھے۔

امیت شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق:

> “اب وہ وقت گیا جب پاکستان کو دہشت گرد بھیجنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ آج اگر کوئی مارا جا رہا ہے تو وہ پاکستانی ہے، کشمیری نوجوان اب دہشت گرد تنظیموں کا حصہ نہیں بن رہے۔”

🇵🇰 پاکستان کا سخت ردعمل

بھارت میں لگائے گئے الزامات پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ترجمان شفقات علی خان نے کہا:

> “بھارتی رہنماؤں کی جانب سے پارلیمنٹ میں کی گئی بے بنیاد اور اشتعال انگیز باتوں کو پاکستان مسترد کرتا ہے۔ یہ بیانات حقائق کو مسخ کرنے اور اندرونی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔”

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ:

> “بھارت کو چاہیے کہ وہ جارحانہ بیانیے سے باز آئے اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پہلگام حملے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لے۔”

دفتر خارجہ نے زور دیا کہ بھارت اپنی افواج کو ہونے والے نقصانات کو تسلیم کرے اور جنگ بندی کے لیے تیسرے فریق کے فعال کردار کو تسلیم کرے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ واقعہ صرف پارلیمانی بحران ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں موجود کشیدگی کی ایک تازہ جھلک ہے۔ جب بات قومی سلامتی کی ہو، تو پارلیمانی شفافیت ایک بنیادی اصول بن جاتی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی خاموشی نہ صرف اپوزیشن کے لیے باعث تشویش ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کے جمہوری تاثر کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا ردعمل، خطے میں قیام امن کی نیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔

📲 WhatsApp چینل فالو کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
🌐 www.newsvoc.com

VOC/INT/004/310725
تحریر: بشیر باجوہ
تصویر: پریس ٹرسٹ آف انڈیا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں