دو ریاستی حل پر سعودی عرب کا عالمی اعتماد — غزہ جانے والا “حنظلہ سفینہ” اسرائیلی شکنجے میں

نیوز ڈیسک
نیویارک / ریاض / اشدود

دو ریاستی حل پر سعودی عرب کا عالمی اعتماد — غزہ جانے والا “حنظلہ سفینہ” اسرائیلی شکنجے میں

سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنے دیرینہ مؤقف کی ازسرنو تصدیق کر دی ہے۔ نیویارک میں کل منعقد ہونے والی اہم بین الاقوامی کانفرنس سے قبل سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ صرف اور صرف دو ریاستی حل ہے۔

یہ کانفرنس فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ قیادت میں ہو رہی ہے، جس میں اقوام متحدہ کی میزبانی نمایاں ہے۔ کانفرنس کا مقصد فلسطینی ریاست کو 1967 کی سرحدوں کے مطابق تسلیم کروا کر مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنوانا ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی قیادت فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کی حمایت جاری رکھے گی، اور ا س ر ا ئ ی ل کے ناجائز قبضے کی وجہ سے پیدا شدہ نفرت، عدم استحکام اور انسانیت سوز صورتحال پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جانا چاہیے۔

اسی دوران، غزہ کے لیے روانہ ہونے والا امدادی بحری جہاز “حنظلہ” اسرائیلی نیوی کی درندگی کا نشانہ بن گیا۔ بین الاقوامی پانیوں میں ا س ر ا ئ ی ل نے اس جہاز کو روکا اور اس پر سوار درجنوں انسانی حقوق کے کارکنان کو گرفتار کر کے اشدود بندرگاہ منتقل کر دیا۔

اس جہاز پر موجود دو فرانسیسی خاتون ارکانِ پارلیمان سمیت کارکنان کا مقصد صرف محصور فلسطینی عوام تک امداد پہنچانا تھا۔ حماس نے اس کارروائی کو انسانی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ا س ر ا ئ ی ل نے نہ صرف انسانی ہمدردی کا خون کیا بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی بے حرمتی کی ہے۔

غزہ کے میڈیا دفتر نے اس عمل کو “عصرِ حاضر کی بحری قزاقی” قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
قانونی ادارہ “عدالۃ” کے وکلاء اشدود روانہ ہو چکے ہیں تاکہ گرفتار کارکنان سے ملاقات کر سکیں۔

یہ واقعات ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ جب تک عالمی ضمیر خوابِ غفلت سے نہیں جاگے گا، فلسطینی عوام یوں ہی قربانیاں دیتے رہیں گے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
ا س ر ا ئ ی ل کی کھلی بحری دہشتگردی اور سعودی عرب کی سفارتی پیش قدمی بیک وقت ہمیں وہ دو رخ دکھاتی ہیں جو آج کے مشرق وسطیٰ کو درپیش ہیں — ایک طرف مزاحمت، دوسری طرف مفاہمت۔ لیکن مفاہمت اسی وقت نتیجہ خیز ہو گی جب عالمی ادارے اپنی آنکھیں بند کرنے کے بجائے، ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہنا سیکھ لیں۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/003/280725

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں