امریکہ اور یورپی یونین میں تجارتی جنگ ٹل گئی — نیا معاہدہ، 15 فیصد درآمدی ڈیوٹی پر اتفاق
نیوز ڈیسک
واشنگٹن / برسلز
امریکہ اور یورپی یونین میں تجارتی جنگ ٹل گئی — نیا معاہدہ، 15 فیصد درآمدی ڈیوٹی پر اتفاق
مہینوں کی کھینچا تانی، دھمکیوں اور بند دروازوں کے پیچھے سفارتی گتھیوں کے بعد، بالآخر امریکہ اور یورپی یونین نے ایک تاریخی تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن کے مابین اس معاہدے کا اعلان سکاٹ لینڈ کے ساحلی مقام پر ہوا، جہاں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو “بہترین تجارتی ساتھی” قرار دیا۔
نئے معاہدے کے تحت امریکہ یورپی مصنوعات پر 15 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کرے گا، جو پہلے 30 فیصد تجویز کی گئی تھی۔ گویا یورپی تاجر بال بال بچے۔
معاہدے کی شرائط کے تحت:
یورپی یونین آئندہ پانچ سالوں میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری امریکہ میں کرے گی۔
750 ارب ڈالر کی امریکی توانائی (گیس، تیل، جوہری فیول) خریدے جائیں گے۔
طیاروں، فارماسیوٹیکل مصنوعات، زرعی کیمیکل، اور سیمی کنڈکٹرز کو جزوی استثنا حاصل ہوگا۔
اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد ڈیوٹی برقرار رہے گی، مگر آئندہ یہ کوٹہ سسٹم میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسے “امریکہ کی عظیم جیت” قرار دیا اور کہا کہ “اب یورپ ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتا!”۔ جبکہ فان ڈیر لائن نے مسکراتے ہوئے کہا: “ہمیں معلوم ہے ٹرمپ سخت سوداگر ہیں، مگر ہمیں امن اور استحکام عزیز ہے۔”
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ معاہدہ محض تجارتی نہیں، بلکہ سفارتی اور تزویراتی کامیابی ہے۔ اگر یہ ڈیڈ لاک نہ کھلتا تو ایک نئی تجارتی جنگ کا آغاز یورپ اور امریکہ کے مابین ناگزیر تھا۔ ٹرمپ نے اگرچہ سخت شرائط رکھیں، مگر یورپ نے بھی اپنی معاشی بقاء کو ترجیح دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چین، روس اور بھارت جیسے کھلاڑی اس نئے مغربی تجارتی اتحاد پر کیا ردِعمل دیتے ہیں۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/002/270725






