ا سر ا ئیل نے غزہ میں امدادی سامان پھینکنے کی مشروط اجازت کا عندیہ دے دیا
نیوز ڈیسک
غزہ
ا س ر ا ئ ی ل نے غزہ میں امدادی سامان پھینکنے کی مشروط اجازت کا عندیہ دے دیا
شمالی غزہ کی پٹی میں فاقہ زدہ فلسطینی امدادی تھیلے کندھوں پر لادے گھروں کی جانب لوٹ رہے ہیں—اس دل دہلا دینے والی صورتحال نے بالآخر عالمی ضمیر کو ہلا دیا ہے۔ عالمی دباؤ کے پیشِ نظر ا س ر ا ئ ی ل نے غزہ کے لیے امدادی سامان کی بند ترسیل کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔
ا س ر ا ئ ی ل کے سرکاری فوجی ریڈیو کے مطابق، بعض ممالک کو اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ پیراشوٹ کے ذریعے امدادی سامان جنگ زدہ غزہ میں پھینک سکیں۔ اگرچہ اس ضمن میں فوجی ترجمان نے کسی تبصرے سے گریز کیا ہے، تاہم یہ پیشرفت کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 2024 میں اردن اور امریکہ نے چند بار فضائی امداد پھینکی تھی، مگر اقوامِ متحدہ نے اس طرز کو علامتی اور ناکافی قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امداد کی زمینی راہداریوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، 2 مارچ سے جاری بدترین ناکہ بندی کے باعث اب تک سو سے زائد فلسطینی فاقہ کشی کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں شیرخوار اور کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ا س ر ا ئ ی ل نے “بھوک کو بطور ہتھیار” استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے ابتدائی دو ہفتوں میں یونیسف نے 5,000 ایسے بچوں کا علاج کیا جو فاقہ کشی کے باعث لاغر اور بیمار ہو چکے تھے۔ اسی ماہ امریکہ نے یونیسف سے علیحدگی اختیار کی جسے ا س ر ا ئ ی ل نے سراہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ٹیڈراس ادھانوم نے بیان میں کہا: “غزہ میں قحط انسانی ساختہ ہے، یہاں بھوک ایک ہتھیار بن چکی ہے۔”
وی او سی اردو کا تبصرہ:
تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو خاموش انسانیت بھی چیخ اٹھتی ہے۔ ا س ر ا ئ ی ل کی دیرینہ پالیسی میں یہ معمولی سی لچک، عالمی دباؤ کی کامیابی تو ہے، مگر یہ اس انسانی المیے کے آگے ایک ادھوری تسکین ہے۔ حقیقی انصاف تب ہو گا جب محصور غزہ کے دروازے مکمل طور پر کھولے جائیں گے اور معصوم بچوں کی بھوک کا جواب گولی سے نہیں، روٹی سے دیا جائے گا۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/119/250725






