وزیراعظم ہاؤس میں قبائلی عمائدین کا جرگہ: ضم شدہ اضلاع کے کوٹے کی بحالی اور امن و ترقی پر عزم
نیوز ڈیسک
اسلام آباد، پاکستان
وزیراعظم ہاؤس میں قبائلی عمائدین کا جرگہ: ضم شدہ اضلاع کے کوٹے کی بحالی اور امن و ترقی پر عزم
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ منعقد ہوا، جس کی قیادت جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کی۔ جرگے میں وزیراعظم شہباز شریف نے عمائدین کو خوش آمدید کہا اور قبائلی علاقوں کی سماجی، تعلیمی اور سیکیورٹی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ملک بھر کے میڈیکل کالجز اور انجینیئرنگ یونیورسٹیز میں قبائلی اضلاع کا تعلیمی کوٹہ بحال کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان پر قبائلی عمائدین نے حکومت کا شکریہ ادا کیا اور اسے تاریخی اقدام قرار دیا۔
جرگے میں ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ قبائلی وفد نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائل نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لیے مثالی قربانیاں دی ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں پائیدار امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت ضم شدہ اضلاع کی معاشی ترقی، نوجوانوں کی فلاح، اور روزگار، تعلیم و صحت کی سہولیات کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ فاٹا یونیورسٹی کی بہتری اور پولیس کے انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
وی او سی اردو کا تبصرہ:
قبائلی عمائدین سے وزیراعظم کی یہ ملاقات علامتی نہیں، بلکہ ایک نئے اعتماد کی بنیاد ہے۔ اگر حکومت اپنے وعدوں کو عملی شکل دیتی ہے، تو قبائلی اضلاع محض جغرافیائی نہیں، قومی یکجہتی کے ماڈل بن سکتے ہیں۔ کوٹے کی بحالی ایک قدم ہے، مگر اصل کامیابی امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے مستقل سفر میں پوشیدہ ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/003/250725






