اسٹیٹ بینک شرح سود کم کرے، ملکی معیشت کو سہارا دیا جائے: عمر اشرف مغل (سابقہ صدر چیمبر اف کامرس)
نیوز ڈیسک
گوجرانوالہ، پاکستان
اسٹیٹ بینک شرح سود کم کرے، ملکی معیشت کو سہارا دیا جائے: عمر اشرف مغل
گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر عمر اشرف مغل نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 30 جولائی 2025 کو اعلان کردہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو فوری طور پر 6 فیصد تک کم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ 11 فیصد پالیسی ریٹ زمینی معاشی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور نجی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
عمر اشرف مغل کے مطابق حالیہ اقتصادی اشاریے واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اب شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ مہنگائی کی شرح صرف 4 فیصد رہ گئی ہے جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) 0.3 فیصد پر آ گیا ہے۔ ان حالات میں بلند شرح سود صنعتی پہیے کو جام کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شرح سود میں کمی سے نہ صرف نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی برآمدات بھی عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی ہو جائیں گی۔ عمر اشرف مغل نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے حکومت کو قرضوں پر سود کی مد میں سالانہ 3500 ارب روپے کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔
سابق صدر گوجرانوالہ چیمبر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کاروباری طبقے اور صنعت کاروں کی آواز سنی جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو معیشت کی بحالی میں مددگار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایک ایسی اقتصادی پالیسی کی حمایت کرنی ہوگی جو ترقی، روزگار اور خوشحالی کی ضامن ہو۔
وی او سی اردو کا تبصرہ:
شرح سود ایک حساس معاشی آلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے ریاستی بینک افراطِ زر کو قابو میں رکھتے ہیں، مگر جب معاشی سرگرمیاں پہلے ہی جمود کا شکار ہوں، مہنگائی کم ترین سطح پر ہو اور سرمایہ کار خوفزدہ ہوں، وہاں بلند شرح سود کسی زہر سے کم نہیں ہوتی۔ عمر اشرف مغل جیسے صنعتی حلقوں کی آواز درحقیقت پورے پیداواری شعبے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی شرح سود میں کمی نہ کی تو نہ صرف صنعتی پہیہ مزید سست ہو جائے گا بلکہ بیروزگاری اور غربت کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ شرح سود میں کمی اس وقت صرف کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکی ہے۔
—
وی او سی اردو
www.newsvoc.com
واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/016/240725






