: عالمی امور ڈیسک
: ماسکو / تہران / واشنگٹن
روس ایران کی ایٹمی طاقت بننے کا مخالف، امریکہ اور اسرائیل کے موقف سے ہم آہنگ؟ – ایرانی میڈیا کا شدید ردعمل
بین الاقوامی میڈیا ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق، روس نے حالیہ دنوں میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے اور “زیرو افزودگی” کی پالیسی کو قبول کرے۔ رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ٹرمپ، فرانسیسی صدر میکرون اور ایرانی حکام کو یہ پیغام دیا کہ ماسکو جوہری معاہدے کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ایران میں افزودگی کی مخالفت کرتا ہے۔
اس خفیہ سفارتی پیغام کے مطابق روس نے ایران اور اسرائیل دونوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ خطے میں ایٹمی کشیدگی نہیں چاہتا۔ اگرچہ ماسکو سرِ عام ایران کے افزودگی کے حق کی حمایت کرتا رہا ہے، مگر پسِ پردہ موقف کچھ مختلف ہے۔
دوسری طرف، ایرانی ریاستی میڈیا نے اس رپورٹ کو “جھوٹ، بکواس اور ناقابلِ فہم پروپیگنڈہ” قرار دیا ہے۔ تہران سے نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ “روس کبھی بھارت کی طرح دغا باز نہیں ہو سکتا، یہ خبر ناقابلِ یقین اور جھوٹ پر مبنی ہے۔”
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے تعلقات اس سطح پر ہیں جہاں ایسی ‘سازشی رپورٹس’ دونوں اقوام کو تقسیم کرنے کا حربہ ہو سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر روس واقعی ایران کے جوہری عزائم کی مخالفت کرتا ہے تو کل کو امریکہ بھی یوکرین کو ایٹمی طاقت بنانے کی کوشش کرے گا، جو روس کے لیے خطرناک نتیجہ ہو سکتا ہے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
روس اور ایران کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں، مگر بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوستی یا دشمنی کا کوئی تصور نہیں۔ اگر ماسکو واقعی زیرو افزودگی کی پالیسی پر زور دے رہا ہے، تو یہ نہ صرف ایران کی خودمختاری کے لیے دھچکا ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں روس کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گا۔ ایران کو اب ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یوکرین کی طرح اسے بھی تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/006/140725






