غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کی نئی امیدیں: نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کی ملاقات
: عالمی ڈیسک
: واشنگٹن، امریکہ
غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کی نئی امیدیں: نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کی ملاقات
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات کے بعد غزہ میں جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کی امیدیں بڑھنے لگی ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب 21 ماہ سے جاری اسرائیل-حماس جنگ کی شدت نے خطے کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، ملاقات میں غزہ جنگ کے خاتمے، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، اور قطر و مصر کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان ایک 60 روزہ عبوری جنگ بندی پر بات چیت ہو رہی ہے، جس کے تحت حماس 10 زندہ قیدی اور چند شہداء کی باقیات کے بدلے اسرائیلی قید میں موجود فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ بھی اس ملاقات سے قبل نیتن یاہو سے مشاورتی ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ ایک اعلیٰ اخلاقی فرض ہے کہ ہم اپنے قیدیوں کو وطن واپس لائیں، خواہ اس کے لیے کٹھن فیصلے کیوں نہ کرنے پڑیں۔”
دریں اثنا، اسرائیلی سیاسی حلقوں میں ایسے جامع معاہدے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جس کے تحت تمام قیدیوں کی ایک ہی تبادلے میں رہائی ممکن ہو۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
غزہ میں جاری انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات کو اسرائیل-امریکہ تعلقات کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم غزہ جنگ بندی کے کسی بھی نئے فریم ورک میں علاقائی ثالثوں (قطر، مصر) کا کردار کلیدی ہوگا۔
اس وقت فلسطینی عوام صرف جنگ بندی نہیں، اپنے انسانی وقار کی بحالی اور آزاد ریاست کے خواب کی تعبیر چاہتے ہیں۔ اگر جنگ بندی صرف سیاسی دباؤ کے ریلیف کا ذریعہ بنے، تو یہ دیرپا امن کی راہ میں صرف ایک عارضی پڑاؤ ہوگا۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر بین الاقوامی ذرائع، سفارتی بیانات اور ابتدائی معلومات پر مبنی ہے۔ مذاکراتی عمل یا حالات میں پیش رفت کی صورت میں اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/002/070725






