“سمپسنز نے پاکستانی کرکٹر کی موت کی پیشگوئی کی تھی؟” — وائرل دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

: میڈیا اینالسز ڈیسک
: اسلام آباد، پاکستان

“سمپسنز نے پاکستانی کرکٹر کی موت کی پیشگوئی کی تھی؟” — وائرل دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ نے کرکٹ مداحوں میں سنسنی پھیلا دی، لیکن حقیقت میں کوئی پیشگوئی موجود نہیں۔

حالیہ دنوں میں ایک جعلی سوشل میڈیا پوسٹ نے پاکستانی سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ عالمی شہرت یافتہ اینی میٹڈ سیریز “دی سمپسنز” نے ایک مشہور پاکستانی کرکٹر کی کار حادثے میں موت کی پیشگوئی کی تھی۔

جعلی اسکرین شاٹ کے ساتھ وائرل ہونے والے پیغام میں لکھا گیا:

> “یہ تکلیف دہ ہے۔ پاکستان کے عظیم کرکٹرز میں سے ایک، اچانک کار حادثے میں چل بسا۔ پوری دنیا کے مداح صدمے میں ہیں… لیکن یہ کیسے ہوا؟ کیا یہ واقعی ایک حادثہ تھا؟ یا کچھ اور؟ سمپسنز نے پیشگوئی کر دی تھی، لیکن کسی نے یقین نہیں کیا۔”

کارٹون میں کسی مخصوص کرکٹر کا نام تو نہیں لیا گیا، لیکن تبصرے پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مداحوں نے بابر اعظم، محمد رضوان اور شاداب خان کو اس جھوٹے منظر سے جوڑ دیا

حقیقت کیا ہے؟

سمپسنز کی اب تک 35 سیزنز اور 750 سے زائد اقساط نشر ہو چکی ہیں۔ کسی ایک بھی ایپی سوڈ، اسکرپٹ، یا کلپ میں پاکستانی کرکٹر کے کار حادثے میں جاں بحق ہونے کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔

یہ پوسٹ AI جنریٹڈ یا فوٹو شاپ شدہ ہے، جسے سوشل میڈیا پر ریچ، کلکس اور سنسنی کے لیے پھیلایا گیا۔

سمپسنز کے پروڈیوسرز یا رائٹرز کی طرف سے بھی ایسا کوئی بیان یا اشارہ موجود نہیں۔

جعلی پیشگوئی کیسے بنی؟

ماضی میں سمپسنز کی چند “اتفاقی پیشگوئیاں” جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، کورونا وائرس اور فاکس نیٹ ورک کی فروخت سچ ثابت ہو چکی ہیں، جس سے سیریز کی “پیشن گوئی” کا تصور مقبول ہوا۔

اسی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر اکثر جھوٹے اسکرین شاٹس بنائے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو دھوکہ دیا جا سکے۔

فیکٹ چیک رپورٹ:

میڈیا اینالسٹ ڈاکٹر عمران رضا کا کہنا ہے:

> “یہ سوشل میڈیا پر جعلی مواد کے پھیلاؤ کی کلاسیکی مثال ہے۔ جذباتی موضوعات پر جعلی دعوے عام صارفین کو متاثر کرتے ہیں۔ سمپسنز کے نام پر وائرل ہونے والی یہ پوسٹ ایک صریح جھوٹ ہے۔”

وی او سی اردو کا تبصرہ:

سمپسنز سیریز بلاشبہ ایک ثقافتی مظہر ہے، جس کی چند “پیشگوئیاں” محض اتفاقیہ طور پر سچ ثابت ہوئیں۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر وائرل پوسٹ سچ نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر تصدیق کے بغیر پھیلائی گئی معلومات عوامی ذہن کو گمراہ کرنے کا سبب بن سکتی ہے، بالخصوص جب بات قومی ہیروز یا جذباتی وابستگیوں کی ہو۔ ایسے دعوؤں کی سچائی پرکھنے کے لیے ذمہ دار صحافت، تحقیق اور شعور ضروری ہے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، تحقیقاتی ذرائع اور فیکٹ چیک رپورٹس پر مبنی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی خبروں سے متعلق حتمی رائے تحقیق کے بعد دی گئی ہے۔

VOC/020/060725

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں