ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن میں 20 بچوں کی اموات، 4 نعشیں اور ریکارڈ غائب ہونے کا الزام، مقدمہ درج
: کرائم ڈیسک
: پاکپتن، پاکستان
ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن میں 20 بچوں کی اموات، 4 نعشیں اور ریکارڈ غائب ہونے کا الزام، مقدمہ درج
پاکپتن میں دل دہلا دینے والا واقعہ منظرعام پر آیا ہے، جہاں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آکسیجن کی مبینہ عدم دستیابی کے باعث 20 نومولود بچوں کی اموات کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ واقعے میں ہسپتال انتظامیہ، ایم ایس، سی ای او ہیلتھ اور دیگر ڈاکٹرز کو نامزد کرتے ہوئے تھانہ سٹی پاکپتن میں فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ ایک بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا جس نے الزام عائد کیا ہے کہ:
“میری بچی کے ہسپتال میں ٹیسٹ تک نہ کیے گئے، مجبوراً پرائیویٹ لیبارٹری سے کروائے۔”
“ہسپتال انتظامیہ نے 4 بچوں کی نعشیں اور ان کا مکمل ریکارڈ غائب کر دیا۔”
“آکسیجن سلینڈرز کو پرائیویٹ اسپتالوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔”
ایف آئی آر میں یہ دعویٰ بھی شامل کیا گیا ہے کہ ہسپتال کے عملے کی غفلت اور مبینہ بدعنوانی نے بچوں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا، اور وقت پر آکسیجن کی عدم فراہمی موت کا سبب بنی۔
تاحال ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا گیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ سانحہ صرف ایک طبی غفلت نہیں، بلکہ ریاستی نظامِ صحت کے بوسیدہ ڈھانچے پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ اگر الزامات درست ہیں تو یہ واقعہ انسانیت سوز جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ بچوں کی نعشیں اور ریکارڈ غائب کرنا محض غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ نیت کو ظاہر کرتا ہے، جس پر فوری عدالتی اور شفاف انکوائری ناگزیر ہے۔ بچوں کی جانوں کا سودا کرنے والوں کے خلاف صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں، بلکہ نشانِ عبرت بنانا ریاست کا فرض ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/018/060725






