ڈی جی آئی ایس پی آر کا بی بی سی کو خصوصی انٹرویو: “بلوچستان میں علیحدگی پسند نہیں، دہشتگرد بھارتی ایجنڈے پر ہیں”

: نیشنل سیکیورٹی ڈیسک
: اسلام آباد / کوئٹہ / پاکستان

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بی بی سی کو خصوصی انٹرویو: “بلوچستان میں علیحدگی پسند نہیں، دہشتگرد بھارتی ایجنڈے پر ہیں”

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بلوچستان میں دہشتگردی سے متعلق کئی اہم حقائق بے نقاب کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ:

“اگر یہ واقعی علیحدگی پسند ہوتے تو فوج کا سامنا کرتے، نہتے شہریوں کو نشانہ نہ بناتے۔ یہ سب بھارتی پروپیگنڈہ ہے جسے پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ بھی بڑھاوا دیتا ہے۔”

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں، پاکستان سے محبت کرتے ہیں، اور کسی بھی قسم کی علیحدگی کی سوچ کو مسترد کرتے ہیں۔

بھارتی مداخلت اور را کا کردار

جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ:

“انڈیا اور اس کے بلوچستان میں موجود ماہرنگ جیسے اہلکار غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور یہاں کے لوگ آج بھی وطن کے لیے قربانی دینے سے نہیں گھبراتے۔”

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عوام کو یا ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ خوف پھیلایا جا سکے۔

ریاستی ترقی اور شدت پسندوں کا نیا بیانیہ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ:

“ریاست پاکستان اور بلوچستان کی حکومت ترقیاتی کاموں میں دیگر صوبوں سے آگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب شدت پسند سہولیات یا محرومی کے بجائے سیدھا ‘آزادی’ کی بات کرتے ہیں کیونکہ انہیں بیرونِ ملک سے رقوم ملتی ہیں۔”

لاپتہ افراد اور عدالتی نظام پر سوالات

جنرل احمد شریف نے کہا:

“لاپتہ افراد کے معاملات عدالتوں میں برسوں لٹکتے ہیں، ثبوتوں کے باوجود مجرم ضمانت پر باہر آ جاتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز جب کارروائی کرتی ہیں تو تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔ اصلاح کی ضرورت عدالتی نظام میں ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ فوج نے خود کو مسنگ پرسنز کمیشن کے سامنے پیش کر رکھا ہے۔

فوج کا کردار: عوامی خدمت، آئینی حدود

“افواج پاکستان کوئی ذاتی ادارہ نہیں، یہ عوام کی فوج ہے جو آئین پاکستان کی مکمل پابند ہے۔ بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا، ہر کارروائی حکومت کے حکم سے ہوتی ہے۔”

افغانستان، بھارت اور غیرملکی مداخلت

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا:

“افغان حکومت کے بعض دھڑے بھارت کی سرپرستی میں پاکستان میں خارجی لانچ کرتے ہیں۔ اگر افغانستان مدد مانگے تو پاکستان معاونت کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ہٹ دھرمی دکھائی گئی تو ہم دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔”

میڈیا اور پیمرا

“میڈیا ہاؤسز کے اپنے ایڈیٹوریل کنٹرول ہیں، مگر ان پر پیمرا کا قانونی فریم ورک لاگو ہوتا ہے۔”

وی او سی اردو کا تبصرہ: ڈی جی آئی ایس پی آر کا انٹرویو بلوچستان کے زمینی حقائق، بھارتی پروپیگنڈے اور ملکی عدالتی سست روی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ بیان اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ بلوچستان کی اکثریت ریاست سے دور ہو چکی ہے۔ فوج نے اپنے کردار کو آئینی دائرے میں تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ہر ادارے کے سامنے جواب دہ ہے۔ اب لازم ہے کہ عدلیہ، میڈیا اور سیاستدان بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/001/280625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں