ایران کی جوہری تنصیبات میں معائنہ کاروں کی واپسی اولین ترجیح ہے: گروسی ایرانی پارلیمنٹ کا بین الاقوامی ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا فیصلہ

: ویانا / ایران ڈیسک
: ویانا / آسٹریا

ایران کی جوہری تنصیبات میں معائنہ کاروں کی واپسی اولین ترجیح ہے: گروسی
ایرانی پارلیمنٹ کا بین الاقوامی ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا فیصلہ

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات میں معائنہ کاروں کی واپسی ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد حالیہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد یورینیم کے ذخیرے اور تنصیبات کو درپیش نقصان کا جائزہ لینا ہے۔

ویانا میں آسٹریا کی کابینہ کے سیکیورٹی اجلاس کے دوران پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے گروسی نے کہا کہ ایران نے انہیں 13 جون کو خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ وہ جوہری مواد اور آلات کی حفاظت کے لیے “خصوصی اقدامات” کر رہا ہے، تاہم ان اقدامات کی تفصیل واضح نہیں کی گئی۔

گروسی نے اشارہ دیا کہ ایران کی جانب سے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں سے بیشتر کو محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم اب تک ان ذخائر اور حملوں کے بعد کی صورتحال کا آزادانہ معائنہ ممکن نہیں ہو سکا۔

پارلیمانی منظوری: تعاون کی معطلی کی راہ ہموار

اسی روز ایرانی پارلیمنٹ نے ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت IAEA کے ساتھ تعاون معطل کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی منظوری کا منتظر ہے۔ پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گروسی اور ایجنسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “جوہری تنصیبات پر حملے پر مذمت نہ کرنے سے ایجنسی نے اپنی ساکھ بیچ دی ہے۔”

قالیباف نے اعلان کیا کہ ایرانی جوہری توانائی تنظیم اس وقت تک ایجنسی سے تعاون نہیں کرے گی جب تک کہ تنصیبات کا تحفظ یقینی نہ بنایا جائے۔

گروسی پر براہ راست الزامات، اقوام متحدہ میں شکایت

ایرانی وزیر خارجہ سمیت کئی اعلیٰ حکام نے گروسی پر اسرائیلی حملوں کی تائید یا سہولت کاری کے الزامات لگائے ہیں۔ ایجنسی کے گورنرز بورڈ کی حالیہ رپورٹ کو ایران نے “سیاسی” قرار دیا اور کہا کہ یہ رپورٹ اسرائیل کو حملے کا جواز فراہم کرتی ہے۔

ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ گروسی کے خلاف اقوام متحدہ میں باضابطہ شکایت دائر کریں گے، اور کچھ سیاستدانوں نے گروسی کے ایران میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

غیریقینی صورتحال: ذخائر اور تنصیبات کی حالت نامعلوم

60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی تقریباً 400 کلوگرام مقدار ایران کے پاس موجود ہے، جو ایٹمی ہتھیار کے درجے سے محض ایک قدم دور ہے۔ تاہم، 22 جون کو فردو، نطنز اور اصفہان میں ہونے والے حملوں کے بعد یہ واضح نہیں کہ ذخائر کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

جہاں امریکہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ایرانی جوہری صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، وہاں تہران اس کی تردید کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ نقصان محدود رہا ہے، اور ایران اپنا جوہری دفاع جاری رکھے گا۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:

ایران اور IAEA کے درمیان تعلقات اس وقت نازک ترین دوراہے پر ہیں۔ گروسی کے بیانات اور ایران کی پارلیمانی قانون سازی بین الاقوامی جوہری نگرانی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے بعد ایران کی مزاحمتی پالیسی میں سختی کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ گروسی کا معائنہ کاروں کی واپسی کی خواہش اور ایران کی ناراضی، دونوں آئندہ چند دنوں میں مشرق وسطیٰ میں ایٹمی تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: Voice of Canada Urdu

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، بین الاقوامی ذرائع اور ایجنسی رپورٹس پر مبنی ہے۔ اس میں شامل بیانات متعلقہ فریقین کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں، جن میں بعد میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/002/260625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں