غزہ: خوراک کی قطار میں کھڑے 6 افراد سمیت اسرائیلی حملوں میں 25 فلسطینی شہید ’غزہ فاؤنڈیشن‘ کے مراکز کے قریب اسرائیلی گولہ باری، اقوام متحدہ کا شدید ردعمل
: غزہ ڈیسک
: غزہ / فلسطین
غزہ: خوراک کی قطار میں کھڑے 6 افراد سمیت اسرائیلی حملوں میں 25 فلسطینی شہید
’غزہ فاؤنڈیشن‘ کے مراکز کے قریب اسرائیلی گولہ باری، اقوام متحدہ کا شدید ردعمل
غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج کی تازہ گولہ باری اور حملوں میں مزید 25 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں 6 وہ مظلوم شہری بھی شامل ہیں جو زیر محاصرہ غزہ میں امدادی ادارے سے خوراک لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
یہ واقعہ وسطی غزہ میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی ٹینک سے کی گئی شدید گولہ باری نے بھوک مٹانے کے منتظر فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ شہری دفاع کے مطابق کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ خوراک کے مرکز کے قریب اُس وقت ہوا جب لوگ رات بھر کی بھوک اور انتظار کے بعد خوراک لینے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
یہ خونی سانحہ امریکہ و اسرائیل کی سرپرستی میں قائم کیے گئے امدادی ادارے ’غزہ فاؤنڈیشن‘ کے مرکز کے نزدیک پیش آیا۔ یہ تنظیم اس وقت غزہ میں قحط کے دہانے پر کھڑے فلسطینیوں میں خوراک تقسیم کر رہی ہے، جس پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس واقعے کو ’خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین ’انروا‘ نے ’غزہ فاؤنڈیشن‘ کو ایک “گھناؤنا منصوبہ” قرار دیا جو خوراک کے نام پر فلسطینیوں میں موت بانٹ رہا ہے۔
اسرائیلی فوج سے جب عالمی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے رابطہ کیا تو اس نے صرف اتنا کہا: “ہم اس واقعے سے متعلق رپورٹس دیکھ رہے ہیں۔”
شہری دفاع نے مزید بتایا کہ بدھ کے روز شمالی و وسطی غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 14 مزید فلسطینی شہید ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ نصیرات کیمپ، دیر البلح اور غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں مکانات مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق غزہ میں صحافتی آزادی بھی شدید متاثر ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو متاثرہ مقامات پر جانے سے روکا جا رہا ہے۔ ’اے ایف پی‘ کے نمائندے کو بھی آزادانہ رسائی حاصل نہ ہو سکی۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 56,077 ہو چکی ہے، جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ رواں ماہ مئی کے اواخر سے لے کر اب تک صرف خوراک کے مراکز کے قریب قتل کیے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر چکی ہے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
خوراک کے لیے قطار میں کھڑے انسانوں پر حملہ، اسرائیل کی اس جنگی پالیسی کا عکاس ہے جو زندگی کے بنیادی حق کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔ ’غزہ فاؤنڈیشن‘ جیسی تنظیمیں اب فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کے بجائے موت کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی خاموشی، امریکہ و اسرائیل کی دوغلی پالیسی اور عالمی ضمیر کی غفلت غزہ کو ایک مسلسل اجتماعی قبرستان میں بدل رہی ہے۔ اگر یہ رویہ جاری رہا تو دنیا کسی عظیم انسانی المیے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر مبنی ہے۔ تحقیقاتی یا ادارتی پیش رفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/003/260625






