چین اور روس کے دباؤ نے ایران اسرائیل جنگ روکی، ٹرمپ نے صرف انجام سنبھالا
رپورٹ: شیخ فیصل پاشا UK (تجزیہ)
: عالمی امور ڈیسک
: واشنگٹن / بیجنگ / تہران
چین اور روس کے دباؤ نے ایران اسرائیل جنگ روکی، ٹرمپ نے صرف انجام سنبھالا
امریکہ، چین اور روس کی سفارتی چالوں نے ایران اور اسرائیل کے مابین 12 روزہ جنگ میں جنگ بندی کی راہ ہموار کی، تاہم صدر ٹرمپ نے اسے اپنی کامیابی ظاہر کیا۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ایران پر فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہا، اور ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیلی دفاعی صلاحیت کو بوجھ تلے دبا دیا۔
چین نے اگرچہ کھل کر کردار ادا نہیں کیا، تاہم ٹرمپ کے اس بیان کہ “چین ایران سے تیل خریدتا رہے گا”، نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ چین نے تہران پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی کرائی۔ چین کو ایرانی تیل کی 90 فیصد برآمد کا فائدہ حاصل ہے، جسے خطرے میں ڈالنا چین کے لیے بھی نقصان دہ تھا۔
روس نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں امریکی حملے کی مذمت کی، مگر نہ تو اسلحہ دیا، نہ دفاعی مدد کی۔ ایران کی مایوسی کا عالم یہ ہے کہ روس سے SU-35 طیاروں کا معاہدہ منسوخ ہو سکتا ہے۔
ادھر ایران نے اپنی مربوط دفاعی حکمت عملی سے اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچایا۔ جنگ کے پہلے ہفتے میں ایران نے 480 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے 70 فیصد آئرن ڈوم کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔ خرمشہر-4 ہائپرسونک میزائل نے تل نوف ایئربیس جیسے اہداف کو نشانہ بنایا۔
غیر سرکاری تجزیوں کے مطابق اسرائیل کو 400 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا، شہری علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا نے اسرائیلی قیادت کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ جنگ صرف گولیوں سے نہیں، معیشت اور سفارت کاری کے داؤ پیچ سے لڑی گئی۔ ایران کی مزاحمت نے امریکہ، چین اور روس جیسے طاقتور کرداروں کو دباؤ کے تحت جنگ روکنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن اصل سبق یہی ہے: گلوبل ساؤتھ کو اپنے اتحاد، نظریے اور خودانحصاری پر اعتماد کرنا ہوگا، کیونکہ طاقتور ریاستیں اصول نہیں، مفاد دیکھتی ہیں۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا ماہر تجزیہ کاروں کی آراء پر مبنی ہے۔ مزید تحقیق یا پیشرفت کی بنیاد پر اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/012/260625
—






