امریکا نے ریڈ لائن کراس کی ہے، ہمارے جواب کا انتظار کریں: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

: انٹرنیشنل ڈیسک
: استنبول / ترکی

امریکا نے ریڈ لائن کراس کی ہے، ہمارے جواب کا انتظار کریں: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور ایران کی خودمختاری پر کھلی جارحیت ہے۔ استنبول میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

> “امریکا نے ایران کی بڑی سرخ لکیر عبور کی ہے، ہمارے جواب کا انتظار کریں۔ ہم اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت مکمل قانونی حق رکھتے ہیں کہ جوابی اقدام کریں۔”

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران اپنے مفادات، عوام اور سرزمین کے دفاع کے لیے تمام آپشنز میز پر رکھ چکا ہے، اور ایرانی مسلح افواج مکمل الرٹ پر ہیں۔

سفارت کاری کا قتل، سلامتی کونسل سے رجوع

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ:

> “سفارت کاری کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، مگر ابھی اس کا وقت نہیں۔ امریکا نے امن مذاکرات کے دوران حملہ کرکے سفارتی عمل کا قتل کیا ہے۔”

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ:

> “یہ امریکا ہی تھا جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہوتے ہوئے عالمی امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ حملہ کسی جنگ زدہ ریاست پر نہیں بلکہ ایک خودمختار ملک پر کیا گیا۔”

پیوٹن سے ملاقات، چین کے ساتھ قرارداد کی تیاری

عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے ماسکو جا رہے ہیں اور کل ان سے تفصیلی مشاورت ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ:

> “ہم چین کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے تھے، مگر اب صورت حال بدل چکی ہے۔”

امریکا نے اپنی قوم کو بھی دھوکہ دیا

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:

> “ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنی قوم کو بھی دھوکہ دیا۔ وہ اس وعدے پر منتخب ہوئے تھے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید جنگوں میں حصہ نہیں لیں گے، مگر آج وہی جنگ چھیڑ چکے ہیں۔”

عباس عراقچی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) سے فوری اجلاس بلانے اور ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
عباس عراقچی کا بیان نہ صرف ایران کے ریاستی ردِ عمل کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک ایسے سفارت کار کی بےباکی بھی سامنے لاتا ہے جو جنگ کے دہانے پر بھی گفتگو، اصول، اور عالمی قانون کی بالادستی کا حوالہ دے رہا ہے۔ اب یہ عالمی برادری پر ہے کہ وہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر امن کی بحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے یا تاریخ کے ایک اور خطرناک باب کو خاموشی سے رقم ہونے دے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/015/220625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں