*جب وائٹ ہاؤس تل ابیب بولنے لگا*
بشیر باجوہ کا خصوصی کالم
*جب وائٹ ہاؤس تل ابیب بولنے لگا*
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم کیا دیا، اسرائیل میں جشن کا سماں برپا ہو گیا۔ *کہیں “Thank you Mr. President”* کے بل بورڈ لگائے گئے، کہیں صدر ٹرمپ کو “امن کا فرشتہ” قرار دیا گیا۔” سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ نے کیا کیا، سوال یہ ہے کہ اب امریکی صدور کے فیصلے واشنگٹن میں ہوتے ہیں یا یروشلم میں؟
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ “ہم نے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے، اور اگر امن نہ آیا تو مزید سخت کارروائی کریں گے۔” یہ لہجہ امریکا کے نہیں، اسرائیل کے دفاعی ترجمان کا محسوس ہوا۔
اسرائیلی حکومت نے جس جوش و خروش سے ٹرمپ کے حملے کا خیر مقدم کیا، وہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران پر بمباری کی کمان عملی طور پر اسرائیلی مفادات کے تحت ہی چلی جا رہی ہے۔ یہی نہیں، امریکی بمبار طیاروں کی واپسی پر مبارکباد کے پیغامات کا تبادلہ بھی ایسا تھا جیسے کوئی کرکٹ میچ جیتا ہو۔
اصل المیہ یہ ہے کہ جب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل “علاقائی جنگ کے عالمی تصادم میں بدل جانے” کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں، تو امریکا امن کی نہیں، جنگ کی زبان بولتا ہے۔
اس سارے منظرنامے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے:
کیا ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت صرف امریکہ کے صدر ہیں، یا اسرائیل کے بھی غیر اعلانیہ سربراہ بن چکے ہیں؟
کیا واشنگٹن کی پالیسیاں اب امریکی عوام کے تحفظ کے لیے بن رہی ہیں، یا اسرائیلی ریاست کے بچاؤ کے لیے؟
جب ایک سپر پاور اپنا پورا عسکری وزن کسی ایک ملک کے تحفظ پر مرکوز کر دے، تو دنیا میں طاقت کا توازن بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایران کے جوابی حملوں کی بات ہو یا خطے میں نئی صف بندی کی، امریکہ کا کردار اب غیر جانب دار ثالث کا نہیں بلکہ براہِ راست فریق کا ہے۔
ایسے میں عالمی برادری کو یہ سوچنا ہو گا کہ کیا واقعی اب وائٹ ہاؤس تل ابیب کی زبان بولنے لگا ہے؟ اور اگر ہاں، تو کیا دنیا کسی نئے صلیبی ایجنڈے کی طرف بڑھ رہی ہے؟
—
تحریر: بشیر باجوہ انٹرنیشنل افیئرز اینالسٹ
وی او سی اردو 🌐 www.newsvoc.com 📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k






