“ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں، آئندہ حملے کہیں زیادہ شدید ہوں گے” — صدر ڈونلڈ ٹرمپ
: وائٹ ہاؤس ڈیسک
: واشنگٹن / امریکہ
“ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں، آئندہ حملے کہیں زیادہ شدید ہوں گے” — صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ “ایران کی تین اہم ایٹمی تنصیبات — فوردو، نطنز اور اصفحان — کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔”
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد “ایران کی جوہری صلاحیت کا خاتمہ” اور خطے میں “امن کے لیے راہ ہموار کرنا” تھا۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر ایران نے امن کی طرف قدم نہ بڑھایا تو آئندہ حملے اس سے کہیں زیادہ شدید، فیصلہ کن اور تباہ کن ہوں گے۔”
انہوں نے کہا،
> “دنیا کی کوئی اور فوج ایسی مہارت اور جرأت کے ساتھ یہ کارروائی نہیں کر سکتی تھی۔ ہم نے ایک بڑا پیغام دیا ہے — اب وقت ہے کہ ایران امن کا انتخاب کرے۔”
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ “یہ حملے امریکی افواج کی طرف سے تھے اور اسرائیل اس آپریشن کا حصہ نہیں تھا، لیکن ہم اپنے اتحادی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔”
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
صدر ٹرمپ کے بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا دو ٹوک انداز اس بات کا مظہر ہے کہ امریکہ نہ صرف ایران کی ایٹمی صلاحیت کو جڑ سے ختم کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس مقصد کے لیے مکمل عسکری دباؤ ڈالنے پر آمادہ بھی ہے۔
یہ بیان اقوامِ متحدہ کے چارٹر، اور بین الاقوامی سفارتی روایات سے انحراف کی نشاندہی کرتا ہے، جو ایک بڑی جنگ کے امکانات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران اس بیان کو ایک دھمکی سمجھے گا، یا کھلی اعلانِ جنگ — اور اس کا جواب کتنا سخت ہوگا۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ رپورٹ صدر ٹرمپ کے آفیشل خطاب، امریکی میڈیا اور سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ کسی بھی نئی پیشرفت یا تردید کی صورت میں خبر میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔
VOC/012/220625






