ہم نے ایران کی تین جوہری تنصیبات — فوردو، نطنز، اور اصفحان — پر انتہائی کامیاب حملہ کیا۔ اب وقت امن کا ہے!”

: انٹرنیشنل ڈیسک
: جنیوا / تہران / واشنگٹن

امریکہ کا ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ، عالمی توازن خطرے میں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی تین حساس اور اسٹریٹیجک جوہری تنصیبات — فوردو، نطنز اور اصفحان — پر کامیاب حملے کیے ہیں۔ صدر کے مطابق ان حملوں کے دوران استعمال کیے گئے بی ٹو بمبار طیارے اب بحفاظت اپنی بیس پر واپس پہنچ چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا:

> “ہم نے ایران کی تین جوہری تنصیبات — فوردو، نطنز، اور اصفحان — پر انتہائی کامیاب حملہ کیا۔ اب وقت امن کا ہے!”

ذرائع کے مطابق:

فوردو پر “بَنکر بسٹر” بم گرائے گئے جو پہاڑ کے نیچے واقع تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

نطنز میں سینٹری فیوجز کو ہدف بنایا گیا۔

اصفہان میں یورینیم پروسیسنگ سے متعلق اہم یونٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ یہ کارروائی “اعلانِ جنگ” کے مترادف ہے، جبکہ چین اور روس نے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان تنصیبات میں سے بعض محفوظ رہیں، جبکہ آئی اے ای اے نے فوری معائنہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:

ایران کے حساس ترین جوہری مراکز پر امریکہ کی براہِ راست کارروائی — اسرائیل کی پشت پناہی سے — نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں ایٹمی توازن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

یہ حملہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک پیغام ہے — کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ اب کھلے میدان میں آ چکی ہے۔
ٹرمپ کی زبان میں “اب وقت امن کا ہے” کہنا، دراصل ایک جارحانہ امن کی چال ہے، جس کی قیمت آئندہ نسلیں چکائیں گی۔

ایرانی ردعمل، خطے میں چھوٹے چھوٹے اتحادیوں کی بڑھتی شمولیت، اور چین و روس کی خاموش چالیں — سب کچھ اشارہ دے رہا ہے کہ جنگ محدود نہیں رہے گی۔
یہ تیسری جنگِ عظیم کی طرف ایک اور قدم ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اقوام متحدہ، نیٹو، یا مسلم دنیا کی جانب سے متوازن ثالثی کی فوری کوشش نہ کی گئی۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ رپورٹ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، امریکی و ایرانی حکام کے بیانات، اور دفاعی تجزیہ کاروں کی آراء پر مبنی ہے۔ زمینی حقائق کی تصدیق وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کی جائے گی۔

VOC/009/220625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں