امریکہ کا ایران پر براہِ راست حملہ: نیوکلیئر جنگ کا دروازہ؟

: انٹرنیشنل ڈیسک
: واشنگٹن / تہران / تل ابیب

امریکہ کا ایران پر براہِ راست حملہ: نیوکلیئر جنگ کا دروازہ؟

بالآخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشمکش میں امریکہ بھی کھل کر میدان میں اُتر آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیرمعمولی اعلان میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات—فردو، نطنز اور اصفہان—پر براہ راست حملہ کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بقول، یہ حملے مکمل کامیاب رہے، فردو کا جوہری کمپلیکس مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، اور امریکی طیارے بحفاظت اپنے اڈوں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے بی ٹو بمبار طیاروں نے ‘بنکر بسٹر’ GBU-57 بم استعمال کیے—وہی بم جو کسی اور ملک کے پاس نہ موجود ہیں، نہ لے جانے کی صلاحیت۔

ٹرمپ نے اپنے اعلان میں نہ صرف اپنی افواج کو “دنیا کی سب سے عظیم” قرار دیا بلکہ امن کے لیے راستہ بھی ہموار کرنے کا دعویٰ کیا۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے عالمی سفارتی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فردو جیسے گہرے جوہری مرکز پر حملہ گویا ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کو صرف اسرائیل سے نہیں بلکہ براہِ راست امریکہ سے بھی مقابلہ ہے۔

یہ حملہ محض عسکری کارروائی نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندی کا مظہر ہے۔ چین، روس اور اقوامِ متحدہ کے خدشات کے باوجود امریکا نے “یک طرفہ عسکری حل” کو ترجیح دی—جس سے خطے میں ایٹمی تصادم کا امکان بڑھ گیا ہے۔

اگر ایران نے اس حملے کا بھرپور جواب دیا تو نہ صرف خلیج، بلکہ جنوبی ایشیا اور یورپ بھی اس جنگ کی زد میں آ سکتے ہیں۔

جہاں ٹرمپ اسے “امن کی راہ” کہتے ہیں، وہیں عالمی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر جنگ کا آغاز بھی ایک “امن کی دلیل” سے کیا جاتا ہے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ کالم مختلف بین الاقوامی ذرائع، سرکاری بیانات اور تجزیاتی رپورٹس پر مبنی ہے۔ بدلتے حالات کے تحت معلومات میں ترمیم یا پیش رفت ممکن ہے۔

VOC/006/220625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں