کالم : فرانس سے لبنان تک: اسرائیل کی گرتی ہوئی دیواریں
کالم
فرانس سے لبنان تک:
اسرائیل کی گرتی ہوئی دیواریں
✍️ بشیر باجوہ
بین الاقوامی تجزیہ نگار و کالم نگار
فرانس کے حالیہ انتخابات نے عالمی منظرنامے میں ایک ایسی زلزلہ خیز لہر دوڑا دی ہے جس کی بازگشت نہ صرف یورپ، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ 577 نشستوں پر مشتمل فرانسیسی قومی اسمبلی میں اکثریت کے لیے درکار 289 سیٹیں حاصل کرنے میں جس دائیں بازو کی جماعت کو ناکامی ہوئی، وہ درحقیقت وہی جماعت تھی جسے اسٹیبلشمنٹ، نیٹو اور اسرائیل کی پُشت پناہی حاصل تھی۔
عوام نے رائے دہی سے وہ طمانچہ رسید کیا ہے جو تمام عالمی منصوبہ سازوں کے نقشے اُلٹ کر رکھ دیتا ہے۔ میکرون کی خفیہ چالاکیاں، یورپی میڈیا کا جھکاؤ، اور نیٹو کی سرد و گرم سفارت کاری سب دھری کی دھری رہ گئیں۔ دائیں بازو کی اسرائیل نواز جماعت کو وہ پذیرائی نہ ملی جس کی اُسے توقع تھی، اور اسرائیل ایک بار پھر سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیا گیا۔
ادھر لبنان کے محاذ پر اسرائیل کو عسکری جھٹکے پر جھٹکا لگ رہا ہے۔ تازہ حملوں میں اسرائیلی ایئربیسز کو نشانہ بنایا گیا، خصوصاً مہاروم ایئر بیس جیسے اہم عسکری مراکز کو زیرِ زمین خفیہ لانچنگ پیڈز سے داغے گئے میزائلوں سے شدید نقصان پہنچا۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان حملوں میں امریکی شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں — ممکنہ طور پر دوہری شہریت رکھنے والے، مگر امریکی خون اب اسرائیلی سرزمین پر بہا ہے۔ یہ صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ سفارتی سطح پر ایک ایسا شاک ویو ہے جو وائٹ ہاؤس کو بھی ہلا سکتا ہے۔
فرانس ہاتھ سے جا چکا ہے، یورپ خاموش ہے، اور امریکہ کے لیے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا اسرائیل کو بچانے کے لیے وہ اپنے تابوتوں کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہے؟
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
اسرائیل کے لیے وقت بدل چکا ہے۔ وہ نہ صرف سیاسی طور پر تنہا ہو رہا ہے، بلکہ عسکری محاذ پر بھی اس کے “ناقابلِ شکست” ہونے کا مفروضہ زمین بوس ہوتا جا رہا ہے۔
فرانس کے عوام نے بغاوت کا آغاز کیا، لبنان کی مزاحمت نے اس کا تسلسل بنایا — اب سوال یہ ہے کہ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ کالم بین الاقوامی ذرائع، تجزیاتی مشاہدات اور معتبر خبروں پر مبنی ہے۔ اس میں پیش کردہ خیالات مصنف کے ذاتی تجزیے ہیں جن سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ عالمی صورت حال مسلسل تغیر پذیر ہے، اس لیے قاری کو تجزیے کو وقت، سیاق اور ماخذ کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔
VOC/Column/210625
☑️ اپنی رائے کا اظہار ری ایکشن کے ذریعے کریں تاکہ ہم آپ تک مزید بےلاگ اور بروقت خبریں پہنچا سکیں۔






