نیتن یاہو کو بیٹے کی شادی کا دکھ، مگر ہزاروں فلسطینی بچوں کی چیخیں اُس کے کانوں تک کبھی نہ پہنچیں
: مڈل ایسٹ ڈیسک
: یروشلم / تل ابیب
—
نیتن یاہو کو بیٹے کی شادی کا دکھ، مگر ہزاروں فلسطینی بچوں کی چیخیں اُس کے کانوں تک کبھی نہ پہنچیں
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے، لیکن اس بار وجہ میدانِ جنگ میں کوئی نئی پیش قدمی یا فوجی کامیابی نہیں، بلکہ ان کے بیٹے کی منسوخ شدہ شادی کا دکھ تھا۔
نیتن یاہو نے تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے سے متاثر ہونے والے اسرائیلی اسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:
“اس جنگ کی ہم سب بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ صرف ملکی سلامتی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ذاتی سانحات کی شکل بھی اختیار کر چکا ہے۔”
نیتن یاہو نے مزید انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے کی شادی جو 16 جون کو طے شدہ تھی، ایرانی حملوں کے خوف اور سیکیورٹی خدشات کے باعث دوسری بار منسوخ کر دی گئی۔
انہوں نے ایک جذباتی انداز میں کہا:
“ہر اسرائیلی شہری اس جنگ کا کوئی نہ کوئی ذاتی نقصان برداشت کر رہا ہے۔ میرے خاندان نے بھی قربانی دی ہے۔”
لیکن یہ “ذاتی غم” اس وقت سفاک تضاد بن کر ابھرتا ہے جب ایک جانب نیتن یاہو اپنی فیملی کی پریشانی کا رونا روتے ہیں، اور دوسری طرف اُن کے فوجی، غزہ، رفح اور اب ایرانی شہروں پر اندھا دھند بمباری کر کے ہزاروں بچوں، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کو خاک و خون میں تڑپا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے صارفین نے نیتن یاہو کے اس بیان کو “منافقت” اور “اخلاقی دیوالیہ پن” قرار دیا ہے۔
ایک معروف عرب تجزیہ کار نے لکھا:
> “نیتن یاہو اپنے بیٹے کی شادی منسوخ ہونے پر افسردہ ہے، لیکن ہزاروں فلسطینی ماؤں کی گود اجڑنے کا دکھ اسے کبھی چھو بھی نہیں سکا۔”
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل جس جارحیت کی راہ پر گامزن ہے، اس کا منطقی انجام خود تباہی ہے۔ جو شخص اپنے بیٹے کی شادی منسوخ ہونے پر رو پڑتا ہے، وہ خود سے سوال کیوں نہیں کرتا کہ اُس کی بمباری نے کتنی ماؤں کو ہمیشہ کے لیے رُلا دیا؟
اسرائیل آج ایک اخلاقی پستی کی انتہا پر کھڑا ہے — اور دنیا کی خاموشی بھی اسی المیے کا حصہ ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/002/200625






