انٹرنیشنل

بھارت میں مسلمانوں کی وقف اراضی پر قبضے کے بل پر شدید ردعمل

مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو خطرہ: اسد الدین اویسی اور دیگر رہنماؤں کی شدید مخالفت

👇👇👇🇵🇰🤝🇨🇦
Voice of Canada اردو

‏نیوز وی او سی اردو
ڈیٹ: 4 اپریل 2025
ڈیسک رپورٹ: بشیر باجوہ، پاکستان

بھارت میں مسلمانوں کی وقف اراضی پر قبضے کے بل پر شدید ردعمل

بھارت میں پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک متنازعہ "وقف بورڈ ترمیمی بل 2025” منظور کیا ہے، جس پر ملک میں شدید سیاسی اور مذہبی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس بل کے تحت حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر وقف کی گئی اراضی پر قبضہ کر سکتی ہے، اور اگر ضرورت محسوس ہو تو ان مقامات پر نئی عمارات جیسے کہ مندر یا تجارتی مراکز تعمیر کی جا سکتی ہیں۔

بل کی منظوری کے بعد بھارتی مسلم رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے بھارتی پارلیمنٹ میں اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کے جائیداد کے حقوق پر براہ راست حملہ ہے اور ان کی مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اویسی نے کہا کہ اس بل کے ذریعے مسلمانوں کو اپنی عبادت گاہوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا ہوگا۔

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اس بل کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مسلمانوں کے جائیداد کے حقوق متاثر ہوں گے بلکہ یہ بھارت میں اقلیتی حقوق کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالے گا۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے بھی اس بل پر شدید تنقید کی اور اسے بھارتی آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ریاستی سطح پر بھی اس بل کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ تمل نادو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے حقوق کو دبانے کی ایک سازش ہے اور اس سے اقلیتی حقوق کو شدید نقصان پہنچے گا۔

اس ترمیمی بل کے تحت بھارت میں وقف اراضی کے انتظامات کو نئے طریقہ کار کے تحت کنٹرول کیا جائے گا، جس کے نتائج مسلمان اقلیتی برادری کے مذہبی اور جائیدادی حقوق پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اس بل کی منظوری کے بعد، بھارت میں مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں، جو ملکی سیاست اور سماجی ڈھانچے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

ڈسکلیمر:
یہ خبر مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات اور بیان کردہ بیانات پر مبنی ہے اور اس کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا ہے۔ اس میں شامل تمام مواد کسی سیاسی یا مذہبی گروہ کی حمایت یا مخالفت میں نہیں ہے۔
Disclaimer:
This news report is based on information gathered from various sources and statements. It aims to provide factual information and does not reflect any political or religious bias. The content is intended for informational purposes only and does not support or oppose any specific political or religious group.

ادارہ: Voice of Canada (اردو)
تحقیقی، تجزیاتی اور غیر جانب دار صحافت کا معتبر پلیٹ فارم
"جہاں تجزیہ خاموش ہو، ہم بولتے ہیں!”

مزید باخبر رہنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں:
whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button