اپوزیشن جماعتوں کے بلائے گئے اجلاس میں مودی سرکار کو خٖفت کا سامنا، تابڑ توڑ سوالات نے بھارتی حکام کو لاجواب کر دیا

اپوزیشن جماعتوں کے بلائے گئے اجلاس میں مودی سرکار کو خٖفت کا سامنا، تابڑ توڑ سوالات نے بھارتی حکام کو لاجواب کر دیا
29 ستمبر 2016 (20:51)
بین الاقوامی
0
Previous
Next
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی حدود میں ’’سرجیکل سٹرائیک ‘‘ کے نام پر رچائے جانے والے ڈرامے پر ہندوستانی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لئے بلائے گئے اجلاس میں اپوزیشن کے تابڑ توڑ سوالات نے بھارتی حکام کو لاجواب کر دیا ۔
بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی‘‘ کے مطابق مودی حکومت نے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل سٹرائیک کے دعووں کے بعد فوری طور پر تمام سیاسی جماعتوں اور اہم حکومتی وزراء کا اجلاس طلب کر کے صورتحال پر اعتماد میں لیا ،لیکن اس اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کی بریفینگ سے مطمئن نظر نہیں آئے ۔حزب اختلاف کے راہنماؤں کا کہنا تھا کہ اجلاس میں انہیں بھی اتنی ہی معلومات فراہم کی گئیں ہیں جتنی میڈیا کو ،اجلاس میں ہمیں ہمارے سوالوں کا کوئی واضح اور معقول جواب نہیں ملا ،اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اس بارے میں حکومت نے کو ئی واضح جواب نہیں دیا کہ اب وہ آگے کیا کر نے والی ہے ؟ اس آپریشن اور سرجیکل سٹرائیک میں کتنے دہشت گرد مارے گئے اس بارے میں بھی حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا ،جبکہ سرجیکل سٹرائیک کی صداقت کے لئے کسی تصویر یا ویڈیو کے بارے میں جب سوال کیا گیا تو حکومت کا کہنا تھا کہ رات گئے ویڈیو اور تصاویر بھی دکھائی جا سکتی ہیں ،کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ اس نازک صورتحال میں ہم مودی حکومت کے ساتھ ہیں ۔دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے سونیا گاندھی سے ملاقات کر کے انہیں تازہ صورتحال پر بریف کیا اور حکومتی حمائت میں بیان جاری کروایا ۔جبکہ مودی حکومت نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی فوجی کارروائی نہیں بلکہ دراندازوں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تھا ۔ادھر بھارتی سیکرٹری خارجہ نے 22ممالک کے سفیروں کو بلا کر ان کے سامنے بھارتی موقف رکھا ،بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے فوری طور پر ملکی اور عالمی سطح پر حمائیت حاصل کرنے کے لئے سفارتی مہم شروع کر دی ہے۔