عرب شہری نے نہ پہنچ کر اس ماڈل کو بڑی مصیبت سے بچالیا،

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب دنیا کے کھرب پتی افراد مغربی ممالک میں جا کر لگژری پارٹیوں کا انعقاد کرتے ہیں اور ان پارٹیوں سے اکثر اوقات دلچسپ خبریں بھی سامنے آتی ہیں۔ ایسے ہی ایک عراقی کاروباری شخص نے لندن میں ایک لگژری فلیٹ کرائے پر لے کر ایک پارٹی کا اہتمام کیا جس میں 24سالہ ماڈل جیما بوئیل بھی شریک تھی۔ پارٹی کے اختتام پر عراقی شخص نے اس ماڈل پر 28ہزار پاﺅنڈ(تقریباً 42لاکھ روپے) کی گھڑی چوری کرنے کا الزام عائد کر دیا مگر گزشتہ روز وہ خود عدالت میں پیش نہ ہوا جس پر جیما بوئیل کو بری قرار دے دیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق فرہینک مجید نامی اس عراقی ارب پتی شخص نے مغربی لندن کے علاقے نائٹس برج میں ایک لگژری فلیٹ کرائے پر لیا جس میں اس نے پارٹی کا اہتمام کیا ۔ پارٹی ختم ہوتے ہی اس نے پولیس بلا لی اور جیما پر گھڑی چوری کرنے کا الزام عائد کر دیا جس پر پولیس نے جیما کو گرفتار کر لیا، البتہ فرہینک مجید واپس عراق چلا گیا۔ گزشتہ دنوں جب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وہ عدالت میں پیش نہ ہوا جس پر عدالت نے جیما کو الزام سے بری قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ جیما کے وکیل پیٹرک گبس کا عدالت میں کہنا تھا کہ ”فرہینک مجید برطانوی شہری نہیں ہے اور یہاں نہیں رہتا لیکن اسے معلوم تھا کہ کیس کی سماعت کب ہونے جا رہی ہے، اس لیے اسے یہاں ہونا چاہیے تھا۔ اس کی عدم موجودگی میں مقدمے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔“ عدالت کو بتایا گیا کہ مجید سے رواں ماہ دوبار فون پر رابطہ کیا گیا اور اسے بتایا گیا کہ آج اسے عدالت میں پیش ہو کر ملزمہ کے خلاف شواہد پیش کرنے ہیں مگر وہ نہیں آیا۔ اس پر عدالت نے جیما کو بری کرتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں