وزیر خارجہ کے بیان کے بعد ملک کو دشمنوں کی کیا ضرورت: نثار
اسلام آباد(نیوز وی او سی)سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہاہے کہ وزیر خارجہ کے اپنے گھرکودرست کرنے کے متعلق بیان سے اختلاف ہے ۔ایسے بیان کے بعد ملک کو دشمنوں کی کیا ضرورت ہے ،انٹرویو کی مزید تفصیل کے مطابق چوہدری نثار نے کہاکہ نوازشریف اس وقت پارٹی کے صدرنہیں ان کے ساتھ چلاجاسکتاہے ۔اختلافات کے باوجود میرا نوازشریف کے ساتھ گزاراہوسکتاہے ۔کسی کوشک نہیں کہ میراشہبارشریف کے ساتھ گزاراہوسکتاہے ۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ مریم نوازکا کردارصرف نوازشریف کی بیٹی تک کا ہی ہے ۔وہ ابھی تک سیاست میں نہیں آئیں۔بچے بچے ہوتے ہیں انہیں لیڈرکیسے ماناجاسکتاہے ۔مریم نوازدوست اورلیڈرکی بیٹی ہیں اسے قائد تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ جب مریم نوازباضابطہ سیاست میں آئیں گی تو ان کا پروفائل بنے گاتولوگ فیصلہ کرینگے ۔مریم نوازاوربینظیربھٹومیں زمین آسمان کا فرق ہے ۔بینظیرکامعاملہ مریم نوازسے قطعامختلف ہے ۔چوہدری نثار نے کہا کہ مخصوص وجہ پرمیں نے وزارت چھوڑنے کافیصلہ کیا ۔جب وزارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تووہ ہفتہ میرے لئے بہت مشکل تھا۔ایک خاص موقع پربہت مایوس ہواتوسیاست ہی چھوڑنے کا کہہ دیا۔اس وقت مجھے کہاگیاسپریم کورٹ کافیصلہ آنے دیں۔میں نے کہا فیصلہ نوازشریف کے حق میں آئے یامخالفت میں استعفیٰ دونگا۔چوہدری نثار نے کہاسیاست چھوڑنے کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کرپیش کیاگیا۔وزارت عظمیٰ یاکسی اورعہدے کاامیدوارنہیں تھا۔پہلے مجھے آسمان پر چڑھایا گیا پھر تنقید شروع ہوئی۔وزارت داخلہ کس کو اچھی نہیں لگتی۔میں نوازشریف کے بعد پارٹی کاسینئرترین رکن ہوں ۔شاہد خاقان عباسی کو میری مشاورت سے وزیراعظم بنایاگیا۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ شہبازشریف پارٹی صدارت کیلئے موزوں ترین امیدوارہیں ۔پارٹی میں کبھی گروپ بندی کی نہ کرونگا،منافقت پسندنہیں کرتا۔عمران میرے دوست ہیں ان سے قربت رہی ہے ۔دھرنے والوں کو میری مرضی کے بغیرریڈ زون میں آنے کی اجازت دی گئی۔اس پرپارٹی میں مجھے پیٹھ پیچھے برائی کاسامناکرناپڑا۔عمران اورپی ٹی آئی کے حوالے سے بیان ضرور دیتاتھا۔مشرف کو سب سے پہلے ٹرائل کورٹ نے باہرجانے کی اجازت دی ۔سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کوباہرجانے کی باقاعدہ اجازت دی ۔ایک سوال پرانہوں نے کہاووٹ کے تقدس کی بحالی کے مشن میں نوازشریف کے ساتھ ہوں مگرطریقہ کارسے متفق نہیں ہوں ۔ووٹ کے تقدس کی بحالی صرف گڈگورننس اورکارکردگی کی بنیادپرہوسکتی ہے ،سپریم کورٹ یاکسی اورادارے سے محاذآرائی کرکے نہیں ہوسکتی۔ترک صدرکی حمایت میں عوام نکلے تھے ۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کسی نے نہیں میں نے بنایاتھا۔اپوزیشن کی مشاورت کے بعد مجھے ایک ہفتہ دیاگیا۔5دن میں ہم نے پلان تیارکیا۔کراچی آپریشن فوج نے نہیں میں نے شروع کیا ۔ میں اس ایشو کولے کر کابینہ میں گیا۔وزیراعظم نے منظوری دی۔رینجرزکی کارکردگی بہت اچھی رہی۔پہلے جنرل رضوان پھرجنرل بلال اچھے طریقے سے کراچی آپریشن کو آگے لے کر چلے ۔وزیرستان کاآپریشن نیشنل ایکشن پلان میں نہیں ہے ۔آج نیکٹابہت زیادہ پروایکٹوہے ۔فوج اورصوبوں میں قریبی تعلقات تھے ۔میرابطوروزیرداخلہ سب سے رابطہ رہتاتھا،سب سے تعلقات ہیں ۔چوہدری نثار نے مزید کہا کہ میں کبھی وزارت خارجہ کاامیدوارتھانہ کبھی نوازشریف سے ڈیمانڈ کی ۔انہوں نے کہاپچھلے پانچ دس سال میں بہتری آئی ہے ۔سول ملٹری تنائو اتنانہیں جتنابڑھاکرپیش کیا جارہاہے ۔نوازشریف کو ہمیشہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کوئی آرمی چیف’’اپنابندہ‘‘نہیں ہے ۔میں نے انہیں کہاکوئی بھی آرمی چیف لے آئیں،میرے بھائی کوبھی آرمی چیف لے آئیں اس کی بھی پہلی کمٹمنٹ اپنے ادارے کے ساتھ ہوگی۔آرمی چیف کو ادارے کیلئے بھی کام کرناپڑتاہے اورحکومت کے ساتھ بھی ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم سمیت 5لوگ جانتے ہیں ملک کو شدید خطرہ ہے ۔میرانہیں خیال نئے وزیراعظم کو اس کاپتہ ہوگا۔بلیک اینڈ وائٹ ہائی پروفائل رپورٹس ہیں کہ ملک کی سلامتی کو شدید خطرات ہیں ۔رپورٹس اتنی ہائی پروفائل ہیں کہ شیئرنہیں ہوسکتیں ۔