لندن فلیٹ: عمران خان کا نامکمل منی ٹریل کا اعتراف

کائونٹی میں20سال پرانا ریکارڈ نہیں رکھاجاتا، 1987میں ایک لاکھ90ہزار پائونڈکمائے ،84ء میں فلیٹ لیا،68ماہ بعد پوری ادائیگی کی،جواب،سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پرسوں سماعت کرے گا
تمام ثبوت دیدیے ،عمران کا فلیٹ50لاکھ جبکہ نواز شریف کے بیٹوں کے فلیٹس 600کروڑ کے ہیں،کوئی موازنہ نہیں بنتا،فواد چوہدری،عمران خان کی زندگی کھلی کتاب ،نااہل نہیں ہونگے ،شفقت محمود اسلام آباد،لاہور(نمائندہ دنیا، ایجنسیاں) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے لندن فلیٹ کی نامکمل منی ٹریل کا اعتراف کرلیا۔انہوں نے کہا کہ کائونٹی کرکٹ سے آمد ن کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں،کائونٹی میں20سال پرانا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، 17 سال کائونٹی کھیلی،کلبز سے کرکٹ کھیلنے کیلئے کیے کنٹریکٹ بھی دستیاب نہیں ہیں۔سپریم کورٹ میں لندن فلیٹ اور بیرون ملک کرکٹ آمدن سے متعلق عمران خان کا 24 صفحات پر مشتمل تحریر ی جواب اور تفصیلات ان کے وکیل نعیم بخاری نے جمع کرائیں۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان برطانیہ میں مہنگے ترین کھلاڑی رہے ہیں، ان کے ساتھ 70 سے 80 کی دہائی میں کرکٹ کے مختلف معاہدے کئے گئے جن سے انہیں کافی آمدن ہوئی، 1971سے 1988تک کاؤنٹی کرکٹ کھیلی، وارسٹر شائر، سسکس کی طرف سے کاؤنٹی کرکٹ کھیلتا رہا۔ انگلش کاؤنٹی سے حاصل آمدن کا 20 سال پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں۔ انہوں نے 1977 سے 1979 تک کیری پیکر کے ساتھ 25 ہزار ڈالرسالانہ کے حساب سے معاہدہ کیا، سفری الاؤنسز اور انعامات کی رقم معاہدوں کے علاوہ ہوتی تھی، انہیں جو بھی ادائیگیاں کی گئیں وہ ٹیکس کٹوتی کے بعد ہی ہوئیں۔تین سال میں کیری پیکر سے 75ہزار ڈالر ملے ۔1984 اور 85 کے درمیان آسٹریلیا اور ساؤتھ ویلز میں بھی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں جس سے انہیں 50 ہزار امریکی ڈالر آمدن ہوئی،جواب میں کہا گیا ہے کہ 1987 منافع بخش سال تھا جس میں ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ ملے ۔کرکٹ کنٹریکٹ کے حوالے سے عمران خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اپنا کنٹریکٹ موجود نہیں، انہوں نے کرکٹر مشتاق احمد کا کنٹریکٹ مثال کے طور پر ساتھ لگایا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک کرکٹر کنٹریکٹ کے کتنے پیسے لیتا تھا اور میں بیرون ملک کرکٹ کے حوالے سے سب سے مہنگا ترین کھلاڑی تھا تو میرا کنٹریکٹ کیا ہوسکتا ہے ۔جواب میں کہا گیاہے کہ کرکٹ کے علاوہ عمران خان مختلف جریدوں میں آرٹیکلز بھی لکھتے رہے ۔ 1984 میں انہوں نے نیازی سروسز کے نام سے سنگل بیڈروم اپارٹمنٹ بھی خریدا ،جس کی کل قیمت 1 لاکھ 17 ہزار پاؤنڈ تھی، اپارٹمنٹ کی پہلی قسط 61 ہزار پاؤنڈ دی گئی جو کرکٹ کی آمدن سے تھی۔فلیٹ 20 سال کے لیے گروی رکھوایا، لیکن پوری رقم 1989 میں 68 ماہ بعد ادا کر دی گئی۔جواب میں کہا گیاہے کہ عمران خان منی لانڈرنگ میں کسی طرح ملوث نہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل 3 رکنی بینچ 25جولائی کو عمر ان خان کی نا اہلی اور غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کریگا ۔گزشتہ سماعت پرعمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے سپریم کورٹ کو لندن فلیٹ کی مکمل منی ٹریل ایک ہفتے کے اندر جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی،مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے عمران خان کی نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے ۔ادھرلاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود نے کہا کہ نواز شریف کی زندگی کی کتاب کے کچھ صفحے غائب ہیں لیکن اصل کھلی کتاب عمران خان کی زندگی ہے ،انہوں نے کرکٹ سے نام کمایا،ان کی برطانیہ میں ایک جائیداد تھی جس کا سارا ریکارڈ موجود ہے ،عمران خان سے بنی گالا کے گھر کا پوچھا گیا انہوں نے حساب دیدیا ،انہوں نے آج تک پبلک آفس ہولڈ نہیں کیا ، عمران خان سے ان کا موازنہ کیسے ہو سکتا ہے ؟تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے اسلام آباد میں سینیٹر شبلی فراز اور مراد سعید کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے تمام ثبوت جمع کرادیئے ،عمران خان کا فلیٹ 50لاکھ اور نواز شریف کے بیٹے کے فلیٹس 600کروڑ کے ہیں، کوئی موازنہ نہیں بنتا،ایفی ڈرین زدہ شخص کی جانب سے مقدمات کا انجام ردی کی ٹوکری ہیں۔ بنی گالا کی منی ٹریل لندن سے منی ٹریل منگوا کر جمع کروا دی اورن لیگ کے تحفظات دور کر دیئے ۔ ایک آدمی نے پوری زندگی کرکٹ کھیل کر ایک گھر بنایا جس کا حساب ہی ختم ہونے میں نہیں آرہا، ہم تو عمران خان کے بچپن تک کی منی ٹریل دے رہے ہیں بس اس میں عیدیاں شامل نہیں ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نااہلی کیس سے کچھ نہیں نکلنا اور پی ٹی آئی چیرمین کیخلاف مقدمات کا انجام ردی کی ٹوکری ہے ، (ن) لیگ سمیت کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنی منی ٹریل دے تو پتہ لگ جائے گا، زرداری ہوں فضل الرحمان یا نوازشریف کوئی بھی عمران جیسی ایک منی ٹریل دے کر دکھادیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان یہ سمجھتے ہیں جو اصول دوسروں کے لئے ہو وہی ہمارے لئے بھی ہوں۔ جب ہم دوسروں کوکہہ سکتے ہیں کہ منی ٹریل دیں تو دوسرے بھی ہم سے کہہ سکتے ہیں کہ منی ٹریل دیں۔ مراد سعید نے کہا کہ اگر پاناما کا ایشو نہ ہوتا تو عمران خان پر کیس نہ ہوتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں