شہباز شریف اور چوہدری نثار کی قیادت میں نئی مسلم لیگ بننے والی ہے

(بشیر باجوہ بیورو چیف پاکستان نیوز وائس آف کینیڈا
نوازشریف پر دبائو بڑھنا شروع ہو گیا۔۔ دونوں بھائیوں اور انکے بچوں میں اتفاق نہیں۔ چوہدری نثار نے خود کو نوازشریف سے الگ کر رکھا ہے
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم ہاﺅس کے اندر سے خبر ملی ہے۔کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت مشاورتی اجلاسوں میں اس بات پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں۔ لیکن استعفیٰ دینے سے متعلق جس بات پر وزیر اعظم اور ان کے مشیروں کا اتفاق نہیں ہو رہا وہ یہ بات ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف استعفیٰ کس وقت دیں۔
وزیر اعظم کے قریبی افراد کی ایک سائیڈ کہہ رہی ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل استعفیٰ دے دیا جائے۔ مبشر لقمان نے بتایا کہ دوسری جانب وزیر اعظم کا ایک قریبی حلقہ ہے جس نے اندرونی سازش کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے شریف خاندان کے گھر والوں میں اتفاق نہیں ہے۔ساتھ ہی ساتھ ان کے بچوں میں بھی اتفاق نہیں ہے۔
چوہدری نثار بھی کئی دن سے وزیر اعظم ہاﺅ س ہی نہیں گئے اور انہوں نے خود کو وزیر اعظم اور وزیر اعظم ہاؤس سے الگ کر کے رکھا ہے۔مبشر لقمان نے کہا کہ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں ایک نئی مسلم لیگ ن بنائی جائے گی۔ اور وہ پارٹی ایسی ہو گی جس میں مسلم لیگ ن کے وہ اراکین جو ناراض ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں، کو روک لیا جائے گا اور اس پارٹی میں شامل کر لیا جائے گا۔
مبشر لقمان نے کہاکہ آئی بی کو ایک اہم ٹاسک دیا گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ آئی بی اپنا ٹاسک پورا کرتی ہے یا نہیں۔ٹاسک یہ ہے کہ چالیس لوگوں کے ٹیلی فونز کی ریکارڈنگ کی جائے، اور بتایا جائے کہ ان کے رابطے کس کس سے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مسلم لیگ ن کو چھوڑ کو کسی اور پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اب مسلم لیگ نواز کے اندر کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا۔
جھوٹ بولا گیا اور دستاویزات میں جعلسازی کی گئی۔ یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے اور جھوٹ ہے۔مبشر لقمان نے مزید کہا کہ غیر ملکی میڈیا بھی وزیر اعظم نواز شریف سے اپنا ہاتھ اُٹھا کر بیٹھ گیا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی منی لانڈرر کے ساتھ نہیں ہوتا چاہے کتنی ہی دوستی کیوں نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے بھی مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
ان کی چار فائلز وزیر اعظم ہاؤس میں تصدیق کرنے کے لیے پڑی ہوئی ہیں ، جن کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی ان فائلز پر دستخط کر دئے گئے تو اگلے 72 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان کا بھی ضمیر جاگ جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کو بچانے کی بات کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے خود پارلیمنٹ کے ساتھ ڈھونگ کیا۔ چار سال کے اندر پارلیمانی میٹنگز محض دو ہیں جس سے وزیر اعظم کی پارلیمنٹ کو دی گئی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مبشر لقمان نے مزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:
https://web.facebook.com/IamMubasherLucman/videos/479711259049971/

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں