سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرانے سے قبل جے آئی ٹی کا اجلاس  

پاناما جے آئی ٹی کا اجلاس فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں شروع ہوا۔ اجلاس میں ارکان نے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کو پیش کی جانے والی دوسری رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کی صدارت ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے واجد ضیا نے کیا جبکہ تمام ارکان اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس میں دوسری 15 روزہ رپورٹ عدالت عظمیٰ کے خصوصی بینچ کے سامنے پیش کرنے کی حکمت عملی سمیت متعدد امور پر غور کیاگیا۔ پاناما کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی بینچ ایک بجے اس اہم کیس کی سماعت کی ۔جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے رپورٹ کاجائزہ لیا۔ اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کونوٹس جاری کردیاگیا۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز سے لندن کی جائیداد کی منی ٹریل کے حوالے سے کی گئی پوچھ گچھ سے آگاہ کیاگیا۔سپریم کورٹ کابینچ پاناما پیپر کیس کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے اثاثوں کی تفتیش کرنے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی پندرہ روزہ کارروائی کا جائزہ لےا۔جے آئی ٹی نے اپنی دوسری 15روزہ رپورٹ میں وزیراعظم کے صاحبزادے حسن اور حسین اورنیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کے بیانات کو اپنی رپورٹ کا حصہ بناچکی ہے ۔ اس کے علاوہ قطری شہزادے کی پاکستان آنے سے انکار کو بھی رپورٹ کا حصہ بناچکی ہے ۔ اس کے علاوہ جے آئی ٹی حسین نواز کی جوڈیشل اکیڈمی کے اندر کی تصویر کے اجراکو بھی رپورٹ کے حصے میں شامل کر چکی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں