پانامہ جے آئی کے دو ارکان برطانیہ پہنچ گئے،اصل حقیقت سامنے آگئی
اسلام آباد (نیوز وی او سی) پاناما کیس میں جے آئی ٹی نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا۔ ٹیم کے دو ارکان برطانیہ روانہ ہو گئے۔ پاناما کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات کا دائرہ کاروسیع کردیا۔ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کے دو ارکان برطانیہ روانہ ہوگئے۔یہ ارکان برطانیہ میں شریف فیملی کے لندن فلیٹس سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے علاوہ لندن فلیٹس کے پراپرٹی ٹیکس کی تفصیلات بھی حاصل کریں گے جبکہ نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں سے متعلق معلومات بھی لی جائیں گی۔دوسری جانب جے آئی ٹی کے دو ممبران کے خلاف حسین نواز کی درخواست پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔ حسین نواز کی درخواست پرسماعت سپریم کورٹ کا خصوصی بنچ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں کرے گا۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس شیخ عظمت سعید انور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں ۔اپنی حسین نواز نے اسٹیٹ بینک کے نمائندے عامر عزیز اور ایس ای سی پی کے نمائندے بلال رسول پر اعتراض اٹھایا ہے۔واضح رہے کہ حسین نواز کل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ جے آئی ٹی نے ان سے دو گھنٹے تفتیش کی جس کے بعد حسین نواز میڈیا سے بات کیے بغیر عقبی دروازے سے روانہ ہوگئے تھے۔
پیشی سے پہلے جوڈیشل اکیڈمی آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز کا کہنا تھا کہ سوالنامہ یا دستاویز کی کوئی فہرست نہیں ملی، کسی بھی مفروضے پت بات نہیں کروں گا۔حسین نواز کا کہنا تھا کہ دوجے آئی ٹی ارکان پراعتراضات کی درخواست سپریم کورٹ میںزیرسماعت ہے، کل عدالت فیصلہ کرے گی کہ آج پیشی کی کیا ساکھ ہے۔ پیشی سے قبل انہوں نے زور دے کر بتایا کہ وکیل ساتھ لائے ہیں۔






