17 رمضان المبارک – یوم وفات ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

👇👇👇🇵🇰🤝🇨🇦
Voice of Canada اردو
17 رمضان المبارک – یوم وفات ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
ام المؤمنین، صدیقہ بنت صدیق، طیبہ زوجۂ طیب، حبیبۂ حبیبِ خدا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ کی والدہ کا نام ام رومان زینب تھا، جن کا نسب نبی کریم ﷺ کے نسب سے قبیلہ کنانہ میں جا ملتا ہے۔ آپؓ کا نکاح 10 شوال نبوت میں مکہ مکرمہ میں ہوا اور رخصتی مدینہ منورہ میں شوال 2 ہجری میں عمل میں آئی۔
ازواجِ مطہرات میں حضرت عائشہ صدیقہؓ وہ واحد ہستی تھیں جن کی پیدائش بھی اسلام میں ہوئی اور پرورش بھی اسلامی ماحول میں ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مردوں میں تو بہت لوگ کمال کو پہنچے، لیکن عورتوں میں صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون ہی اس درجے کو پہنچیں، جبکہ عائشہؓ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر۔” (صحیح بخاری)
حضرت عائشہ صدیقہؓ کی علمی برتری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، جب بھی کسی مشکل اور پیچیدہ مسئلے کا سامنا کرتے، تو حضرت عائشہؓ کی طرف رجوع کرتے، اور ان کے پاس ہمیشہ اس کا حل موجود ہوتا۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں:
"میں نے کسی کو بھی معانیٔ قرآن، احکامِ حلال و حرام، عربی ادب، شاعری اور علمِ انساب میں حضرت عائشہؓ سے زیادہ ماہر نہیں پایا۔”
آپؓ کی امت پر ایک بڑی عنایت یہ بھی ہے کہ آیاتِ تیمم کے نزول کا ظاہری سبب آپؓ ہی بنی تھیں۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ ایک سفر کے دوران حضرت عائشہؓ کا ہار گم ہو گیا، جس کی تلاش میں صحابہ کرامؓ کو کافی وقت لگ گیا۔ پانی دستیاب نہ ہونے کے باعث، انہوں نے بغیر وضو نماز ادا کی، جس کے بعد آیاتِ تیمم نازل ہوئیں، جو امت مسلمہ کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوئیں۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ نہ صرف علم و فقہ میں اعلیٰ مقام رکھتی تھیں، بلکہ سخاوت میں بھی بے مثال تھیں۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عائشہؓ نے ستر ہزار درہم راہِ خدا میں صدقہ کر دیے، حالانکہ اس وقت ان کے لباس میں پیوند لگا ہوا تھا۔ ایک اور موقع پر، جب آپؓ نے ایک لاکھ درہم صدقہ کر دیے، تو شام کو روزہ افطار کرنے کے لیے صرف ایک خشک روٹی تھی۔ جب خادمہ نے کہا کہ اگر کچھ بچا لیا جاتا تو سالن بھی تیار ہو سکتا تھا، تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: "مجھے یاد نہ رہا، تم نے یاد دلا دیا ہوتا۔”
آپؓ کی خدمات کا سب سے بڑا پہلو علمِ دین کی اشاعت اور امت کی تربیت ہے۔ حدیث اور فقہ میں آپؓ کا مقام اتنا بلند تھا کہ کئی جلیل القدر صحابہ کرامؓ بھی آپؓ سے مسائل دریافت کرتے۔ آپؓ کی روایاتِ حدیث کی تعداد 2210 ہے، جو دین اسلام کے علمی ورثے میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے 17 رمضان المبارک 57 ہجری کو مدینہ منورہ میں 63 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپؓ کو وصیت کے مطابق جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی حیاتِ طیبہ سے سیکھنے، ان کے علم سے مستفید ہونے، اور ان کی صفات کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
دعاگو:
بشیر باجوہ (نیوز وی او سی اردو)