یومِ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ؛ عدل و انصاف کی تاریخ کا روشن ترین باب یادگار
: دینی و تاریخی امور ڈیسک
: مدینہ منورہ / سعودی عرب
🔴 یومِ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ؛ عدل و انصاف کی تاریخ کا روشن ترین باب یادگار
آج یکم محرم الحرام 1447 ہجری ہے، وہ دن جو اسلامی تاریخ میں عدل، دیانت، اور خالص اسلامی حکمرانی کے عظیم ترین مظہر کی یاد تازہ کرتا ہے—یومِ شہادت حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمؓ۔
فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے:
“لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطابؓ”
(اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو وہ عمرؓ ہوتے) — مسند احمد
22 لاکھ مربع میل پر حکومت کرنے والا وہ حکمران جس کی قمیص پر 17 پیوند تھے، اور جس کی لکھی دو سطریں آج تک دریائے نیل کی روانی کا سبب ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ وہ ہستی ہیں جنہوں نے قانون کو اقتدار پر غالب رکھا، رعایا کو حکمران پر مقدم جانا، اور انصاف کو دربار کی چوکھٹ سے نکل کر عام آدمی کی دہلیز تک پہنچایا۔
آپؓ کا دور خلافت عدل اجتماعی، نظامِ مشاورت، بیت المال کی شفافیت، اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کی اعلیٰ مثال ہے۔ مدینہ کی گلیوں سے بیت المقدس کی فتح تک، ہر قدم پر خالص اسلامی اصولوں کی عملی تصویر دکھائی دی۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
آج کے سیاسی و سماجی انتشار میں اگر دنیا کسی معیارِ حکمرانی، کردار اور قیادت کی متلاشی ہے تو حضرت عمر فاروقؓ کا عدل، سادگی اور جرات آج بھی رہنمائی کا مینار ہے۔ ان کی زندگی مسلمانوں ہی نہیں، انسانیت کے لیے ایک عظیم ضابطہ ہے۔ یومِ شہادت پر ان کے افکار و نظامِ خلافت کی تجدیدِ عہد لازم ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ رپورٹ اسلامی روایات، معتبر احادیث اور تاریخی کتب کے حوالوں پر مبنی ہے۔ کسی مسلکی یا سیاسی تعبیر سے بالاتر ہو کر خالص تعظیمی پیشکش ہے۔
VOC/020/070725






