یمن نے بحیرۂ احمر میں اسرائیل جانے والے بحری جہاز پر میزائل و ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
: مڈل ایسٹ ڈیسک
: صنعا، یمن
—
یمن نے بحیرۂ احمر میں اسرائیل جانے والے بحری جہاز پر میزائل و ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
اسرائیلی بندرگاہوں کی جانب جہاز رانی پر عائد پابندی کی خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی: یمنی مسلح افواج
یمنی مسلح افواج نے بحیرۂ احمر میں ایک تجارتی بحری جہاز پر میزائل اور ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بحری جہاز اسرائیل کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں کی جانب سفر پر تھا، اور اس نے اس پابندی کی خلاف ورزی کی جو اسرائیلی بندرگاہوں کی جانب جہازوں کے لیے نافذ کی گئی ہے۔
یمنی فوجی ترجمان کے مطابق:
> “یہ حملہ فلسطین خصوصاً غزہ کے عوام کے دفاع میں کیا گیا، اور ہم کسی بھی ایسے جہاز کو نشانہ بنائیں گے جو اسرائیل کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ طور پر منسلک ہو۔”
یاد رہے کہ غزہ جنگ کے بعد یمن نے اعلان کیا تھا کہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں اسرائیل سے جڑے کسی بھی بحری عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد سے اب تک کئی تجارتی اور کارگو جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی بحری ذرائع نے تاحال اس واقعے میں جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یمن کی طرف سے ایسے حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یمن کی حوثی قیادت کی جانب سے بحری پابندی کا عملی اطلاق خطے میں بحری سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسرائیل کے خلاف عسکری مزاحمت کی یہ نئی شکل نہ صرف جنگ کا دائرہ وسیع کر رہی ہے بلکہ بحر احمر جیسے عالمی تجارتی راستے کو بھی میدانِ جنگ میں بدل رہی ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ اور علاقائی قوتوں نے فوری طور پر کوئی راستہ نہ نکالا تو یہ جھڑپیں عالمی سطح پر توانائی، ترسیل اور سیکیورٹی کا بحران پیدا کر سکتی ہیں۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر بین الاقوامی ذرائع، سرکاری بیانات اور عسکری رپورٹس پر مبنی ہے، جس میں مزید تحقیقات کے بعد تبدیلی ممکن ہے۔ ادارہ کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔
VOC/008/080725






