انٹرنیشنل

سعودی عرب نے غیر ورک ویزوں پر پابندی عائد کر دی، 13 اپریل کے بعد سفر ممکن نہیں

سعودی عرب نے تمام غیر ورک ویزوں پر پابندی عائد کر دی، بزنس اور ملٹی پل انٹری ویزے رکھنے والے بھی 13 اپریل کے بعد سفر نہیں کر سکیں گے

👇👇👇🇵🇰🤝🇨🇦
Voice of Canada اردو

سعودی عرب نے تمام غیر ورک ویزوں پر پابندی عائد کر دی، بزنس اور ملٹی پل انٹری ویزے رکھنے والے بھی 13 اپریل کے بعد سفر نہیں کر سکیں گے

رپورٹ بشیر باجوہ
وی او سی اردو
تاریخ: 4 اپریل 2025

سعودی حکومت کی جانب سے نئی پابندیوں کا نفاذ، غیر ورک ویزے رکھنے والوں کے لیے سختی کا سامنا

ریاض: سعودی عرب نے تمام غیر ورک ویزوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے تحت اب بزنس ویزے اور ملٹی پل انٹری ویزے رکھنے والے افراد بھی 13 اپریل 2025 کے بعد سعودی عرب کا سفر نہیں کر سکیں گے۔ سعودی وزارت داخلہ نے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق تمام غیر ورک ویزے رکھنے والے افراد کو سعودی عرب میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس نئی پابندی کا مقصد سعودی عرب میں آنے والے غیر ضروری افراد کی تعداد کو محدود کرنا اور ملک میں مزید بہتری لانا ہے۔ سعودی حکومت نے یہ فیصلہ اپنے داخلی حالات اور نئے ویژن 2030 کے تحت کیا ہے، جس کے تحت اقتصادی ترقی اور مقامی ورک فورس کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک کے شہریوں نے سعودی عرب کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب میں بزنس، ملٹی پل انٹری اور دیگر اقسام کے ویزے رکھنے والے افراد جو پہلے سعودی عرب کا سفر کر چکے ہیں، انہیں اب 13 اپریل کے بعد ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، جس سے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

اس پابندی کے بعد سعودی عرب جانے والے افراد کو ورک ویزا حاصل کرنا ضروری ہوگا، اور حکومت نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں صرف غیر ورک ویزوں تک محدود رہیں گی۔

ڈسکلیمر:
This news report is based on information gathered from various sources and statements. It aims to provide factual information and does not reflect any political or religious bias. The content is intended for informational purposes only and does not support or oppose any specific political or religious group.

مزید معلومات کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں:
[واٹس ایپ چینل لنک] https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button