کل احتجاج میں شرکت نہ کرنے والوں سے جواب طلب کیا جائے گا: سلمان اکرم راجہ
نیشنل، نیوز ڈیسک
راولپنڈی، پاکستان
کل احتجاج میں شرکت نہ کرنے والوں سے جواب طلب کیا جائے گا: سلمان اکرم راجہ
پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ روز کے احتجاج میں عوام کی کم شرکت کے معاملے پر پارٹی میں گفتگو کریں گے اور چیئرمین عمران خان سے بھی اس پر مشاورت کریں گے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے توشہ خانہ ٹو کے مقدمے کو مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “سائفر کیس میں بھی فیملی، میڈیا اور وکلا کو داخلے سے روک دیا گیا، حالانکہ ہائیکورٹ کی واضح ہدایات ہیں کہ اگر ان کو داخلہ نہ دیا جائے تو یہ اوپن ٹرائل نہیں رہتا۔”
انہوں نے کہا کہ “میں سمجھتا ہوں کل کا دن بڑی حد تک کامیاب رہا، مگر احتجاج اس سے کہیں بہتر ہو سکتا تھا۔ اس بات پر غور کیا جائے گا کہ لوگ کیوں نہیں نکلے۔ ہم آئندہ کی حکمتِ عملی بہتر بنائیں گے اور چیئرمین عمران خان سے مشاورت کریں گے۔”
سلمان اکرم راجہ نے انکشاف کیا کہ “میں اور محمود خان اچکزئی کل رات 11 بجے تک عمران خان کی بہنوں کے ہمراہ چکری انٹرچینج پر موجود رہے۔ اگر کوئی ایم این اے بغیر معقول وجہ کے احتجاج میں شریک نہ ہوا تو اسے اس کا جواب دینا ہوگا۔”
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کل کے احتجاج کو کامیاب قرار دیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ “ملک بھر کے 170 اضلاع، تمام تحصیلوں اور یونین کونسلز میں بھرپور احتجاج ہوا، عوام نے واضح پیغام دیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
وی او سی اردو کا تبصرہ:
تحریک انصاف کے احتجاج میں شرکت کم ہونے پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں تشویش کی لہریں دوڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کی رائے اور مشاورت کا عندیہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ تحریکِ انصاف اپنی صفوں میں سختی اور تنظیمی بازپرس کا راستہ اپنانے کو تیار ہے۔ دوسری جانب پارٹی کی سینئر قیادت کے کامیابی کے دعوے بھی سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں، مگر زمینی حقائق کا تجزیہ لازم ہے کہ آیا احتجاجی طاقت ماند پڑ رہی ہے یا نئی حکمت عملی درکار ہے؟
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/009/070825






