“کر سکتا ہوں، شاید نہ بھی کروں” — امریکی صدر کا ایران پر اسرائیلی حملوں میں شرکت سے متعلق مبہم بیان
: وائٹ ہاؤس ڈیسک
: واشنگٹن، امریکہ
“کر سکتا ہوں، شاید نہ بھی کروں” — امریکی صدر کا ایران پر اسرائیلی حملوں میں شرکت سے متعلق مبہم بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں میں امریکہ کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے ایک غیر واضح لیکن سفارتی طور پر بھاری بیان دے دیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق، ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا امریکہ اسرائیلی حملوں میں شامل ہو گا، صدر ٹرمپ نے کہا:
> “I may do it, I may not.”
(میں کر سکتا ہوں، اور شاید نہ بھی کروں۔)
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو جنگ کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے، اور عالمی سفارتکاری شدید دباؤ میں ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس جملے کو سفارتی دو معنویت (strategic ambiguity) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف ایران بلکہ اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کے لیے بھی ایک “پیغام” ہے کہ امریکہ فی الوقت براہ راست فوجی مداخلت کے لیے تیار نہیں — لیکن دروازہ بند بھی نہیں۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
صدر ٹرمپ کا مبہم اندازِ بیان دراصل سفارتی چالاکی اور داخلی سیاسی احتیاط کا عکس ہے۔
امریکہ اس وقت خطے میں ایک طرف اسرائیل کی عسکری مہم جوئی کا غیر علانیہ سہولت کار ہے، اور دوسری جانب عالمی جنگ میں براہ راست جھکاؤ سے اجتناب برت رہا ہے۔
ایران کے لیے یہ جملہ شاید ایک نفسیاتی دباؤ ہو، لیکن اسرائیل کے لیے یہ ایک خودمختار تنبیہ بھی ہو سکتا ہے:
“آگے بڑھے تو تنہا ہو سکتے ہو!”
صدر ٹرمپ کے بیانیے کا حقیقی مفہوم آنے والے دنوں میں میدانِ جنگ سے زیادہ، ایوانِ اقتدار میں کھلے گا۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ رپورٹ عالمی خبر رساں ادارے BBC اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ صورتحال میں تغیر ممکن ہے۔
VOC/017/190625






