کالم: بچوں کے جنازے، سائرن کی خاموشی اور حکومت کی گونگی فلاحی ریاست
بچوں کے جنازے، سائرن کی خاموشی اور حکومت کی گونگی فلاحی ریاست
تحریر: بشیر باجوہ
(بین الاقوامی تجزیہ نگار و کالم نویس vocاردو)
دریائے سوات کی بے رحم موجوں میں بہہ جانے والا محسن غوری کا خاندان محض ایک المناک سانحہ نہیں، بلکہ ریاستی بےحسی، انتظامی ناکامی اور دعووں کی چمک دمک کے نیچے چھپی کھوکھلی حقیقت کا آئینہ ہے۔ نو افراد، جن میں چار کمسن بچیاں شامل تھیں، لمحوں میں دریا کی گود میں دفن ہو گئے۔ مگر جو بات سب سے زیادہ تڑپا دینے والی ہے، وہ یہ کہ یہ حادثہ صرف پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے نہیں ہوا — یہ حادثہ اُس سسٹم کی موت ہے جو صرف کاغذوں میں زندہ ہے۔
صوبائی حکومت (KPK) کی جانب سے سیاحت کے فروغ، ہنگامی امداد اور جدید سہولیات کی ایک طویل لسٹ میڈیا پر فخر سے پیش کی جاتی ہے: ریسکیو ٹیمیں، ایئر ایمبولینس، موبائل کنٹرول رومز، تربیت یافتہ اہلکار۔ مگر جب ایک عام پاکستانی شہری دریا کنارے زندگی کی خوشیوں میں مشغول ہوتا ہے، تو یہ پورا نظام ایک ماچس کی ڈبیا کی طرح بکھر جاتا ہے۔
یہ سوال آج پوری شدت سے ہمارے سامنے کھڑا ہے:
کیا یہی وہ “محفوظ سیاحت” ہے جس کا خواب ریاست ہمیں دکھاتی ہے؟
جب محفوظ تفریحی مقامات پر انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اور حفاظتی اقدامات کا وجود صرف حکومتی پریس ریلیز میں ہو، تو ان دعووں کی سچائی کیا رہ جاتی ہے؟
ایک اور دردناک تضاد آنکھوں میں چبھتا ہے — وہ سائرن سسٹم جو شہری علاقوں میں نصب کر کے ‘جنگی ماحول’ پیدا کیا گیا، کیا وہ دریا کنارے نصب نہیں کیا جا سکتا تھا جہاں قدرتی آفات کا حقیقی خطرہ موجود رہتا ہے؟ لاکھوں روپے کے وارننگ سسٹمز صرف مظاہروں یا ہنگامی مشقوں میں ہی کام آ سکتے ہیں؟ اگر ان سائرنز کی گھنٹیاں دریا کے کنارے گونجتیں، تو شاید وہ چار بچیاں آج اپنے والد کے پہلو میں زندہ ہوتیں۔
یہ محض اتفاق نہیں، یہ ترجیح کی ناکامی ہے۔
ریاست نے اپنے وسائل کا رخ اُن عوام کی طرف نہیں موڑا جو موسمِ گرما میں اپنے بچوں کو لے کر وطن کے حسن سے لطف اندوز ہونے نکلتے ہیں۔ ریاست نے اپنے منصوبوں کو میڈیا کی سرخیوں تک محدود رکھا، زمینی حقیقتوں سے کوسوں دور۔
یہ سانحہ ہماری اجتماعی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ ہم دیکھنے کا حوصلہ رکھیں۔
—
وی او سی اردو 🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
نوٹ: یہ کالم وی او سی اردو کی ادارتی پالیسی کے مطابق رائے کا اظہار ہے اور اس کا مقصد عوامی آگہی، احتساب اور حفاظتی پالیسیوں پر سوال اٹھانا ہے۔
VOC/010/270625






