چین اور روس کا اسرائیل کو انتباہ: “ایران پر حملے بند کرے، جنگ نہیں، صرف بات چیت ہی حل ہے”

: انٹرنیشنل ڈیسک
: بیجنگ / ماسکو

🔴 چین اور روس کا اسرائیل کو انتباہ: “ایران پر حملے بند کرے، جنگ نہیں، صرف بات چیت ہی حل ہے”

صدر شی اور پیوٹن کا رابطہ، مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ، طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور

چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان آج ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں عالمی رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی شدید مذمت کی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

چینی خبر رساں ادارے شہنوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے کہا:

> “بین الاقوامی برادری کو ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے فوری کوششیں کرنی چاہئیں۔
بات چیت اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا بنیادی راستہ ہیں۔”

انہوں نے متحارب فریقین، بالخصوص اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری جنگ بندی کرے اور معصوم شہریوں کو نقصان پہنچانے سے مکمل گریز کرے۔ شی جن پنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طاقت کا استعمال عالمی مسائل کا حل نہیں ہو سکتا اور عالمی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔

روسی صدر پیوٹن نے چین کے مؤقف کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ:

> “اسرائیلی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا حل صرف اور صرف سفارتی سطح پر ممکن ہے۔”

کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے بات چیت، ثالثی اور غیر جانبدار سفارتی اقدامات کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

شی جن پنگ نے روس کی جانب سے ایران پر ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا اور چین کی حمایت کا یقین دلایا۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ رابطہ بلاشبہ ایک اہم سفارتی موڑ ہے۔ جب مغربی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، تو چین اور روس کی مشترکہ مذمت اور جنگ بندی کا مطالبہ عالمی طاقتوں پر ایک نرم مگر واضح دباؤ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں قیام امن اب صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ سفارتی ضمیر کی آزمائش ہے۔
اگر اسرائیل نے طاقت کے نشے میں ان آوازوں کو بھی نظرانداز کیا، تو پھر آنے والی جنگ صرف ایک خطے کی نہیں، بلکہ پوری دنیا کی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/012/190625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں