چارسدہ میں خواجہ سرا قتل، ملزم فرار

👇👇👇🇵🇰🤝🇨🇦
Voice of Canada
چارسدہ میں خواجہ سرا قتل، ملزم فرار
February 14, 2025 Desk Report
چارسدہ: چارسدہ کے تنگی روڈ پر واقع فیصل پلازہ میں ایک اور خواجہ سرا کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا جبکہ ملزم تاحال فرار ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت فضل واحد عرف گرگرہ کے نام سے ہوئی جو کہ تحصیل تنگی کے گاؤں اجارہ کے رہائشی تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق انہیں کمر میں گولی مارنے کے بعد گلے میں دوپٹے سے پھانسی دے کر قتل کیا گیا۔
پولیس نے نامعلوم ملزم کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ جائے وقوعہ سے ایک موبائل فون برآمد ہوا ہے جسے تفتیش میں پیش رفت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
مقتول کے بھائی شارم (فرضی نام) نے بتایا کہ انہیں رات 3 بجے چارسدہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے اطلاع ملی کہ ان کے بھائی کی لاش اسپتال کے مردہ خانے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ میرے بھائی کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا جبکہ اس کے گلے میں پھندا بھی تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش آبائی گاؤں منتقل کر دی گئی جہاں دن 2 بجے تدفین عمل میں آئی۔ مقتول کی عمر 23 سال تھی اور وہ گزشتہ 7 سالوں سے چارسدہ میں مقیم تھے۔
واقعے کے بعد چارسدہ میں مقیم خواجہ سرا شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ خواجہ سرا تنظیم “ٹرانس ایکشن الائنس” کے مطابق، گزشتہ 9 سالوں میں خیبرپختونخوا میں 145 سے زائد خواجہ سرا قتل کیے جا چکے ہیں مگر قاتلوں کو سزائیں نہ ملنے کے باعث یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
چارسدہ میں خواجہ سرا برادری کی صدر مسکان نے بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے مقتول کی لاش زمین پر پڑی دیکھی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ہم خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ خیبرپختونخوا میں کسی خواجہ سرا کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہو۔ 2021 میں مردان روڈ پر واقع ایک پلازے میں فیصل نامی شخص نے خواجہ سرا گلالئی کو قتل کیا تھا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی۔ اس طرح مئی 2024 ملزم تیمور نے فائرنگ کر کے خواجہ سرا گل پانڑہ کو زخمی کر دیا تھا۔
مختلف حلقہ ارباب کی جانب سے یہ سوال ابھی بھی جواب طلب ہے کہ آیا پولیس قاتل تک پہنچ پائے گی یا نہیں؟ تھانہ سٹی کے ایس ایچ او سے موقف لینے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے موبائل فون سے تفتیش میں مدد مل رہی ہے تاہم خواجہ سرا برادری کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔