پاکستان اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حمایت، سفارتی منظرنامے میں غیر متوقع پیش رفت

: انٹرنیشنل ڈیسک
: واشنگٹن، امریکہ

نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا
پاکستان اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حمایت، سفارتی منظرنامے میں غیر متوقع پیش رفت

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو باضابطہ طور پر 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ یہ نامزدگی پیر کی شب وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک سرکاری ظہرانے کے دوران صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی۔

اس موقع پر نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا،
“آپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے خواب کو حقیقت کا رنگ دیا۔ ابراہم معاہدے، ایران پر دباؤ، اور عالمی سفارت کاری میں آپ کی جرأت مندانہ روش امن کا دروازہ کھول رہی ہے۔”

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان اور اسرائیل وہ دو ممالک ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے اس اقدام کو بین الاقوامی امن کی حمایت قرار دیا ہے، اگرچہ اس پر ملک میں متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں۔

یاد رہے کہ 2020 میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ابراہم معاہدے کے پس منظر میں امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا، مگر وہ ایوارڈ حاصل نہ کر سکے تھے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت ہمیشہ متنازع مگر مؤثر رہی ہے۔ پاکستان اور اسرائیل جیسے متضاد پس منظر رکھنے والے ممالک کی مشترکہ حمایت نہ صرف سفارتی سطحات پر ایک “تاریخی لمحہ” بن سکتی ہے بلکہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی منظرنامہ کن نئی کروٹوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر ٹرمپ کو نوبیل انعام ملتا ہے تو یہ امن کی تعریف اور اس کے معیارات پر بھی نئی بحث چھیڑ دے گا۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ذرائع سے موصول شدہ ہے، جس میں ممکنہ کمی یا غلطی ہو سکتی ہے۔ ادارہ کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔

VOC/001/090725

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں