ٹرمپ کا ایرانی جنگ پر دو ہفتے میں فیصلہ: یورپی و ایرانی حکام جنیوا میں خفیہ ملاقاتیں شروع
: جنیوا ڈیسک
: جنیوا / سوئٹزرلینڈ
ٹرمپ کا ایرانی جنگ پر دو ہفتے میں فیصلہ: یورپی و ایرانی حکام جنیوا میں خفیہ ملاقاتیں شروع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کا فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں کرنے کے اعلان کے بعد، جنیوا میں یورپی اور ایرانی حکام کے درمیان ہنگامی ملاقاتیں شروع ہو گئی ہیں۔
سی این این کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد ممکنہ جنگ کو سفارتی تدبیر سے روکنا ہے۔ سی این این کے نمائندے میتھیو چانس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان مذاکرات میں ایران کی اعلیٰ سطح کی نمائندگی ہو رہی ہے، جبکہ یورپی یونین کے تین بڑے ممالک — فرانس، جرمنی اور برطانیہ — بھی شریک ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات میں ایران نے اپنے مؤقف کو واضح انداز میں پیش کیا ہے کہ اگر امریکہ نے یکطرفہ حملہ کیا تو وہ مکمل مزاحمت کرے گا، جبکہ یورپی ممالک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ تنازع کو سفارتی انداز میں سنبھالا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا:
“میں ایران سے متعلق فیصلہ کر رہا ہوں۔ میں انہیں کچھ وقت دے رہا ہوں، زیادہ سے زیادہ دو ہفتے۔”
اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
جنیوا میں جاری یہ خفیہ ملاقاتیں ایک بار پھر اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا ایران اسرائیل جنگ کو پھیلنے سے روکنا چاہتی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے دو ٹوک الفاظ اس وقت بین الاقوامی سفارتکاری کو ایک دباؤ میں ڈال چکے ہیں۔ اگر اگلے دو ہفتوں میں کوئی واضح سفارتی بریک تھرو نہ آیا تو خطہ مشرقِ وسطیٰ ممکنہ طور پر ایٹمی کشیدگی کی طرف جا سکتا ہے۔ یورپ اس وقت دونوں فریقوں کے بیچ میں ایک نازک پل بن چکا ہے، لیکن امریکہ کی جارحانہ پالیسی اس پل کو کسی بھی وقت منہدم کر سکتی ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ رپورٹ سی این این اور جنیوا میں موجود سفارتی ذرائع پر مبنی ہے۔ مذاکراتی پیشرفت اور امریکی پالیسی کے بدلتے بیانات کی بنیاد پر مواد میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/004/210625






