پاکستان

وایر خزانہ کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت میں اسحاق ڈار کےوکیل کی عدم دستیابی کے باعث سماعت میں آدھےگھنٹے کا وقفہ کردیا گیا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف دائر اثاثہ جات ریفرنس اور چیئرمین نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کے دو نئے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کی توثیق کے لیے نیب کی درخواست پر سماعت کررہے ہیں۔
سماعت کے آغاز پر عدالت کو بتایا گیا کہ اسحاق ڈار کے وکیل پشاور روڈپر ٹریفک میں پھنسےہوئےہیں۔
جج محمد بشیرنے کہا کہ ساڑھےنو بجے تک بلالیں، ساڑھے نو بجے سماعت کریں گے۔
سماعت میں استغاثہ کے گواہ اور نیب پراسیکیوٹر عدالت میں حاضر ہیں جبکہ اسحاق ڈار پیش نہیں ہوئے۔
ملزم کے پیش نہ ہونے پر 50لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط کر لیے جائیں گے۔ ملزم کو اشتہاری قرار دینے کے لیے نیب کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ کے دو نئے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کی توثیق کی بھی سماعت ہوگی۔
اسحاق ڈار لندن میں زیر علاج ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔
گزشتہ سماعت پر نیب کی جانب سے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سے متعلق عملدرآمد رپورٹ داخل کرانے کے بعد اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
فاضل جج نے اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کے ضامن احمد علی قدوسی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ اگر اسحاق ڈار آئندہ سماعت پر بھی پیش نہ ہوئے تو داخل کیے گئے 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط کر لیے جائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button