نیویارک — ڈے کیئر فراڈ اسکینڈل میں ایف بی آئی اور پولیس کا بڑا چھاپہ، ریکارڈ قبضے میں — بڑی گرفتاریوں کا خدشہ
رپورٹ ۔ فاروق مرزا
انٹرنیشنل ڈیسک
—
نیویارک — ڈے کیئر فراڈ اسکینڈل میں ایف بی آئی اور پولیس کا بڑا چھاپہ، ریکارڈ قبضے میں — بڑی گرفتاریوں کا خدشہ
نیویارک میں اپنا ڈے کیئر اور آشیانہ ڈے کیئر پر ایف بی آئی اور پولیس نے ایک غیر معمولی مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بڑے ٹرکوں میں موجود مکمل ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے تقریباً بارہ اعلیٰ تفتیشی افسران اور سات ٹرک آپریشن میں شریک رہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈے کیئر کے مالک پرویز صدیقی کی ایئرپورٹ پر سخت تلاشی لی گئی، تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق ڈے کیئر نیٹ ورک کے تقریباً دو ہزار اکاؤنٹس تھے جن کے ذریعے ممبران کو ٹرانسپورٹرز اور مختلف ایپس کے ذریعے کیش دیا جاتا رہا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کونی آئی لینڈ کے کچھ ہوٹلز کاغذوں میں بڑے پیمانے پر کھانے فراہمی ظاہر کر کے چیک لیتے جبکہ بعد میں یہ رقم کیش کی صورت واپس کر دی جاتی تھی۔
اسی فراڈ میں ایک مخصوص کمیونٹی کی چند خواتین کے نام بھی سامنے آئے جنہیں چند ماہ قبل شاملِ تفتیش کیا گیا تھا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ شازیہ وٹو کی رسائی نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز کے گھر تک ہو چکی تھی، جہاں پرائیویٹ فنڈ ریزنگ اور خصوصی بریفنگز بھی کی جاتی تھیں۔
مزید برآں، اس اسکینڈل میں پاکستان سے آنے والی ایک خاتون صحافی، کونی آئی لینڈ کے مقامی ٹی وی چینل، ایک اوبر ڈرائیور مالک، اور ایک چیریٹی آرگنائزیشن کے میڈیا پارٹنر تک شامل ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جنہیں مختلف ایوارڈز اور مراعات بھی مل چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس گروپ نے پاکستان اور امریکہ میں کئی جائیدادیں بنائیں اور مختلف ناموں سے نئے کاروبار شروع کیے۔ اس نیٹ ورک کو ایک مقامی اسمبلی مین نے سات لاکھ ڈالر کی سٹی گرانٹ بھی جاری کی تھی جس کا حساب تاحال موجود نہیں۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس چھاپے کے بعد متعدد بڑی گرفتاریوں کا امکان بڑھ گیا ہے، جبکہ گروپ میں شامل کئی افراد بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بڑے قانونی ایکشن کے باوجود کسی پاکستانی نژاد امریکی صحافی نے اب تک اس خبر کو رپورٹ نہیں کیا۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ
نیویارک میں سامنے آنے والا یہ ڈے کیئر اسکینڈل پاکستانی کمیونٹی کے نظامِ اعتماد پر کاری ضرب ہے۔ جب خیرات، بچوں کے ادارے اور کمیونٹی سینٹر ذاتی مفاد کا ذریعہ بن جائیں تو نقصان صرف مالی نہیں—وقار کا ہوتا ہے۔ یہ کیس امریکی تفتیشی اداروں کی سنجیدگی اور اس فراڈ کے حجم دونوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نیٹ ورک سے جڑے بڑے نام کس طرح سامنے آتے ہیں اور قانون اپنا راستہ کیسے بناتا ہے۔
—
🌐 وی او سی اردو
www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور معتبر ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے۔ ادارہ Voice of Canada اردو کسی بھی ملک، تنظیم یا فریق کے ساتھ براہِ راست تعلق یا ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
VOC/001/041225






