نواز شریف اور کل بھوشن کی کہانی ۔۔۔۔۔۔ !

(بشیر باجوہ بیورو چیف پاکستان نیوز وائس آف کینیڈا)
پاک فوج نے بہترین وقت کا انتخاب کرتے ہوئے کل بھوشن کی گرفتاری عین اس دن ظاہر کی جس دن ایران کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ یوں میاں نواز شریف کو موقع دیا کہ وہ اس کو ایرانی صدر کے ساتھ اٹھا ئیں۔
لیکن نواز شریف خاموش رہے اور یوں ایک بہترین موقع ضائع کر دیا گیا۔
کل بھوشن کی گرفتاری کے تیسرے دن ایک جاپانی آفیشل نے اپنی حیرانگی ظاہر کرتے ہوئے کہ ” ہمیں امید تھی کہ پاکستان فوری طور پر پاکستان میں موجود تمام غیر ملکی نمائندوں کو بلا کر انڈین دہشت گردی اور کل بھوشن کے حوالے سے آگاہ کریں گے”۔۔
لیکن نواز شریف نے ایسا نہیں کیا۔
امید کی جا رہی تھی کہ اتنی بڑی گرفتاری پر ںواز شریف حکومت کل بھوشن کا ڈھونڈورا پوری دنیا کے سامنے پیٹے گی۔ حکومتی نمائندوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ کل بھوشن کے خلاف جلد ہی ایک ” ڈوسئر ” اقوام متحدہ میں جمع کروانے والے ہیں۔ جس میں کل بھوشن اور انڈیا کا سارا کچا چھٹا ہوگا۔
وہ ڈوسئیر آج تک جمع نہیں ہوسکا۔
کل بھوشن کی گرفتاری کے پانچ ماہ بعد اقوام عالم کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں نواز شریف نے پوری دنیا سے خطاب کرنا تھا۔ قوم کو امید دلائی گئی کہ درحقیقت یہی وہ موقع تھا جسکا انتظآر کیا جا رہا تھا۔ وہاں نواز شریف کو باقاعدہ کل بھوشن کے حوالے سے چٹ بھی دی گئی لیکن اس نے دوران تقریر اس کو نظر انداز کر دیا۔
نواز شریف نہیں بولا۔
اس کے بعد پیٹ کے درد سے لے کر پانامہ تک نواز شریف نے دنیا کے کئی چکر لگائے لیکن کہیں بھی کل بھوشن کا نام نہیں لیا۔ حتی کہ پیپلز پارٹی کے اعزاز احسن نے اس بات پر انعام کا اعلان کر دیا کہ ” نواز شریف صرف کل بھوشن کا نام لے کر دکھا دے” ۔۔۔
دسمبر میں نواز شریف کے دست راست اور سینئر سفارت کار سرتاج عزیز نے بیان جاری کیا کہ ” کل بھوشن کے خلاف ہمارے پاس شواہد ناکافی ہیں” ۔۔( جبکہ کل بھوشن کی اعترافی ویڈیو تک پوری دنیا دیکھ چکی تھی) جس پر انڈیا نے ایک بار پھر پوری دنیا میں اپنی معصومیت کا ڈھنڈورا پیٹا۔
29 مارچ کو نواز شریف حکومت نے کل بھوشن کے حوالے سے خاموشی سے عالمی عدالت انصاف کی ثالثی تسلیم کر لی۔ ( یہ خبر اب سامنے آئی ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے)
10 اپریل کو پاک فوج نے کل بھوشن کو آرمی کورٹ میں سزائے موت سنادی۔ انڈیا نے اس سزا کے خلاف پوری دنیا میں واویلا برپا کیا۔ اور اعلان کیا کہ وہ کل بھوشن کو ہر قیمت پر چھڑا لینگے۔
نواز شریف خاموش رہا۔
11 مئی کو نواز شریف نے انڈین ٹائیکون اور سجن جندال سے مری میں ایک خفیہ ملاقات کی جس کی تفصیلات کبھی منظر عام پر نہ آسکیں لیکن اس ملاقات کے فورا بعد ۔۔
افغانستان اور انڈیا کی سرحدوں پر تناؤ میں اضافہ ہو گیا۔
احسان اللہ احسان کے انڈیا مخالف انٹرویو کو بین کر دیا گیا۔
اور ۔۔۔۔۔ کل بھوشن پر عالمی عدالت انصاف میں پاکستان نے خاموشی اختیار کر لی۔
کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اگر عالمی عدالت کی ثالثی تسلیم نہ کی جائے تو اس کیس کی کوئی وقعت نہیں اس لیے ٹیم ہی نہ بھیجی جائے۔ لیکن نواز شریف نے ٹیم بھیج دی۔
انڈیا نے وہاں اپنا جج بھیجا پاکستان کے پاس جج بھیجنے کا آپشن تھا لیکن نواز شریف نے جج نہیں بھیجا۔
انڈیا نے چن کر کل بھوشن کے لیے ان معاملات کا ماہر انڈیا کا بہترین وکیل بھیجا۔ لیکن نواز شریف نے وکیل تک نہیں بھیجا اور عین آخری لمحے میں پاک فوج کو ہی عجلت میں وکیل بھیجنا پڑا۔
اب عدالت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ کل بھوشن کی پھانسی پر عمل درامد روک دیا جائے اور اسکو کونسلر ایکسس دیا جائے۔
نواز شریف کے حامی کہہ رہے ہیں کہ ” دراصل فیصلہ ہمارے خلاف نہیں بلکہ عدالت تعیئن کرنا چاہتی ہے کہ آیا وہ کل بھوشن کے حوالے سے فیصلہ کر سکتی ہے یا نہیں”
شاہزیب خانزادہ نے اس پر پورا پروگرام کر دیا ہے۔
میرا سوال سادہ سا ہے اگر عالمی عدالت اپنے اختیار کا تعئن نہیں کر سکی تو کس اختیار کے تحت کل بھوشن کی موت پر سٹے آرڈر دے رہی ہے ؟؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں