“نرم دراندازی: دشمن کی نئی چال اور ہماری غفلت”

بشیر باجوہ کا تجزیاتی کالم
“نرم دراندازی: دشمن کی نئی چال اور ہماری غفلت”

کبھی توپوں کا شور ہوتا تھا، کبھی بارود بولتا تھا، اب دشمن کی گولی خاموش ہے، مگر وار کاری۔ آج کے زمانے میں دشمن نہ بارڈر پار کرتا ہے نہ توپخانے چلاتا ہے، وہ دماغوں میں راستے بناتا ہے، سوشل میڈیا پر مسکراہٹیں بھیجتا ہے، اور دلوں میں دوستی کے نام پر زہر گھولتا ہے۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں غیر ملکی خواتین کی حالیہ آمد اور سوشل میڈیا کے مشتبہ روابط کی—ایک ایسا معاملہ جو بظاہر خوبصورتی اور ثقافت کے رنگوں میں لپٹا ہوا ہے، لیکن اندر سے نرم دراندازی (soft infiltration) کا مہلک ہتھیار۔

پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے عالمی ایجنڈوں کا میدانِ کارزار رہی ہے۔ لیکن اب جنگ کا طریقہ بدل گیا ہے۔ اب جو لڑائی لڑی جا رہی ہے، وہ موبائل فون کی سکرین، واٹس ایپ کالز، انسٹاگرام چیٹس اور جعلی شناختوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ یہ وہ چال ہے جسے ایران جیسا محتاط ملک بھی بھگت چکا ہے—جہاں موساد نے اپنی کارروائیوں کے لیے حسین چہروں، سادہ رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کا سہارا لیا۔

ہمیں بھی ہوشیار ہو جانا چاہیے!

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور—کہیں کوئی “دوست” آنے والی ہے، کوئی یوٹیوبر سیاح بن کر روابط قائم کر رہا ہے، کوئی وی لاگر بظاہر روایات سے متاثر ہو کر، دراصل نیٹ ورک بچھا رہا ہے۔ اور ہمارا نوجوان؟ وہ محض لائکس اور فالوورز کی چکاچوند میں ان دیکھے دشمنوں کو دل و دماغ کا راستہ دے رہا ہے۔

ریاست کہاں ہے؟

کہاں ہیں وہ ادارے جن کا کام سیکیورٹی ہے؟ کہاں ہے وہ سائبر ونگ جسے ہر ایک ویڈیو، ہر ایک ڈیجیٹل نقشِ پا کا جائزہ لینا چاہیے؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم ان تعلقات کو نرمی سے نہیں، احتیاط اور تفتیش کی نظر سے دیکھیں؟

بشیر باجوہ کی رائے میں:

یہ وقت محض نظارے کرنے کا نہیں، نظرداری کا ہے۔ وقت ہے کہ:

امیگریشن حکام ہر مشتبہ داخلے کی جڑ تک جائیں؛

سائبر یونٹس ہر نیٹ ورکنگ کو صرف “ڈیٹا” نہ سمجھیں، اسے سیکیورٹی کا در کھولنے والی چابی سمجھیں؛

نوجوان نسل کو جذبات کی نہیں، بصیرت کی آنکھ سے تعلقات دیکھنے کی تربیت دی جائے۔

کیونکہ دشمن اب بندوق نہیں، رشتے لے کر آتا ہے۔

کالم کا اختتام ایک پرانے شعر سے:

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے اہلِ وطن،
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں