فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک-امریکہ تعلقات میں فیصلہ کن سنگ میل، خواجہ آصف
: اسلام آباد ڈیسک
: اسلام آباد، پاکستان
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک-امریکہ تعلقات میں فیصلہ کن سنگ میل، خواجہ آصف
سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی 78 سالہ تاریخ کا “فیصلہ کن موڑ” قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا:
> “فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک-امریکہ تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔ اس سے قبل کسی بھی امریکی صدر نے پاکستانی آرمی چیف کو سرکاری طور پر ملاقات کی دعوت نہیں دی۔”
انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں نہ صرف عالمی اور علاقائی امور زیربحث آئے بلکہ پاکستان کی خطے میں مصالحتی اور اسٹریٹجک اہمیت بھی نمایاں ہوئی۔ ان کے مطابق:
> “پاکستان عالمی سطح پر تنازعات کے حل میں جو کردار ادا کر سکتا ہے، اسے تسلیم کیا گیا۔ پاک-بھارت کشیدگی ایک بار پھر بین الاقوامی ایجنڈے پر آ چکی ہے۔”
خواجہ آصف نے موجودہ حکومت کو “ہائبرڈ ماڈل” قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:
> “معیشت کی بحالی، ہندوستانی اثر و رسوخ کی شکست، اور امریکہ کے ساتھ آبرومندانہ تعلقات — یہ سب اسلام آباد اور راولپنڈی کی ہم آہنگی سے ممکن ہوئے۔”
خواجہ آصف نے اپنے بیان کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
> “اللہ ہم سب کو ذاتی و گروہی مفادات سے بالا ہو کر قوم کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔”
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ ملاقات نہ صرف ایک عسکری پیش رفت تھی بلکہ سفارتی تاریخ کا ایسا لمحہ بھی بن گئی ہے جسے آئندہ عشروں تک یاد رکھا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل کو ظہرانے کی دعوت اور ملاقات میں پاکستان کو علاقائی استحکام کا فریق تسلیم کیا جانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد اب عالمی سفارتکاری کا خاموش مگر مؤثر محور بنتا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف جیسے تجربہ کار سیاستدان کی طرف سے یہ اعتراف موجودہ عسکری و سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد کی فضاء کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، سوشل میڈیا بیانات اور عوامی ذرائع پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/018/190625






