علی امین گنڈاپور کا دو ٹوک اعلان: صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے
: پشاور / پاکستان
علی امین گنڈاپور کا دو ٹوک اعلان: صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کر دیا ہے کہ صوبے کی حدود میں کسی قسم کے عسکری یا خفیہ آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ادارے اپنی توجہ سرحدوں کی حفاظت پر مرکوز رکھیں۔
پشاور میں امن و امان کے موضوع پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گنڈاپور نے کہا کہ جن جماعتوں نے اے پی سی کا بائیکاٹ کیا، ان کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ ہمارا مقصد سیاسی اتحاد نہیں، بلکہ صوبے میں امن کا قیام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اب ہم مزید قربانیاں نہیں دے سکتے۔ قبائلی علاقوں کے مشیروں سے مشاورت کے بعد گرینڈ جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم “گڈ طالبان” اور “بیڈ طالبان” کی کسی تفریق کو قبول نہیں کرتے۔ کوئی مسلح گروہ، چاہے وہ کس بھی نام سے ہو، صوبے میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ڈرون حملے ریاست کرتی تھی، اب دہشت گرد بھی انہی ہتھیاروں سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ہم صوبے میں کسی بھی فریق کو ڈرون سے حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے گنڈاپور نے کہا کہ نگراں وفاقی وزراء کرکٹ کے فیصلے یا فلائی اوور بنا سکتے ہیں، مگر خیبرپختونخوا کے عوام کے فیصلے نہیں کر سکتے۔
وی او سی اردو کا تبصرہ:
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا لہجہ نہ صرف غیر مبہم ہے بلکہ صوبائی خودمختاری کے دفاع میں سخت اور حتمی بھی۔ پچھلی دہائی میں جاری دہشتگردی اور آپریشنز کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف قابلِ فہم اور سیاسی لحاظ سے جرأت مندانہ ہے۔ تاہم اس مؤقف کو قومی سلامتی اور اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے تناظر میں متوازن رکھنا ہی اصل امتحان ہوگا۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/002/240725






