سی سی ڈی کی نئی پالیسی پر سوالیہ نشان ظفر سپاری کی “رحم طلبی” کیا منصوبہ بند اسکرپٹ تھی؟

: کرائم ڈیسک
: راولپنڈی، پاکستان

سی سی ڈی کی نئی پالیسی پر سوالیہ نشان
ظفر سپاری کی “رحم طلبی” کیا منصوبہ بند اسکرپٹ تھی؟

راولپنڈی میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام خطرناک ملزمان کی فہرستیں مکمل کر لی گئی ہیں اور اب انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ممکنہ طور پر “راستے سے ہٹایا” جائے گا۔

ذرائع کے مطابق CCD نے اپنے حالیہ اندرونی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ جن افراد کو “ریاست کے لیے خطرہ” سمجھا جاتا ہے، انہیں عدالتوں میں گھسیٹنے کے بجائے براہِ راست انکاؤنٹر کا نشانہ بنایا جائے گا۔

اسی پالیسی کا مظاہرہ گزشتہ روز اُس وقت ہوا جب شہر کے معروف بااثر کردار “ظفر سپاری” کو CCD نے گرفتار کر کے کیمروں کے سامنے معافی منگوائی۔ منظرنامہ کچھ یوں تھا کہ ظفر سپاری کو پولیس نے مبینہ طور پر “بیان رٹوا کر” سامنے لایا، جس میں اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کوئی غیرقانونی حرکت نہیں کرے گا۔

قانونی حلقوں کے مطابق ظفر سپاری کا ویڈیو بیان، CCD کے دباؤ کا نتیجہ لگتا ہے تاکہ اسے ماورائے عدالت انجام سے بچایا جا سکے، اور ریاست اپنی کارروائی کو “قانونی رنگ” دے سکے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
قانون کی حکمرانی کا اصول یہ ہے کہ ہر ملزم کو شفاف عدالتی عمل کے ذریعے انصاف فراہم کیا جائے۔ اگر CCD یا کوئی بھی ادارہ ماورائے عدالت اقدامات کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف آئین پاکستان بلکہ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ظفر سپاری جیسے افراد اگر واقعی مجرم ہیں، تو انہیں عدالت میں ثبوت کے ساتھ پیش کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ کسی کو کیمرے کے سامنے معافی دلوانا محض ریاستی کمزوری اور قانونی نظام پر عدم اعتماد کی علامت ہے۔ اگر یہ سلسلہ شروع ہو گیا تو ہر بااثر شخص، کیمرے کے آگے “رحم کی اپیل” کر کے خود کو سزا سے بچا لے گا، اور عام آدمی ہمیشہ بےآواز ہی رہے گا۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/008/060725

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں